خیبرپختونخوا میں سی این جی بندش کا فیصلہ ہائیکور میں چیلنج

پشاور سمیت خیبر پختونخوا میں سی این جی سٹیشنز کی بندش کو پشاور ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا۔رٹ درخواست میں صدر پاکستان، وزیراعظم، اوگرا، ایس این جی پی ایل سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے رٹ ملک یاسین ایڈوکیٹ کی جانب سے دائر کی گئی ہے جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ پشاور سمیت صوبہ کے بیشتر اضلاع میں سی این جی سٹیشنز کو بغیر کسی پیشگی اطلاع کے بند کر دیا جاتا ہے سی این جی کی بندش سے عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔رٹ کے مطابق خیبر پختون خوا میں زیادہ تر گاڑیاں سی این جی سے ہی پر چلتی ہیں تاہم جب بھی توانائی بحران شروع ہو جاتا ہے تو سب سے پہلے سی این جی سٹیشنز کو پیشگی اطلاع دیئے بغیر بند کیا جاتا ہے جو کہ غیرقانونی اقدام ہے ۔حکومت اگر سی این جی سٹیشنز بند کرنا ہے تو پہلے سے عوام کو اطلاع دیا کریں سی این جی بندش کے باعث پبلک ٹرانسپورٹ، سکول وینز، ایمولینس سمیت دیگر نظام زندگی مفلوج ہو جاتا ہے، انہوں نے رٹ درخواست میں استدعا کی ہے کہ عدالت سی این جی کی بندش کو غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دیں اور ائے روز سی این جی اسٹیشنز کی بندش کو کالعدم قرار دیں کیونکہ بیشتر پبلک ٹرانسپورٹ سی این جی سے چلتی ہیں اور اسٹیشنز بند ہونے کی وجہ سے بہت سے غریب لوگ بے روزگار ہو جاتے ہیں اور ان کے گھر کے چولہے ٹھنڈے پڑ جاتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed