پشاور ہائیکورٹ نے سنیئر پیونی جج کو نظر انداز کرکے جونیئر جج کو چیف جسٹس ہائیکورٹ تعینات کرنے کیخلاف دائر رٹ پٹیشن دوسرے بنچ کو ارسال کردی۔ دوران سماعت اسسٹنٹ اٹارنی جنرل راحت علی نحقی نے عدالت کوبتایا کہ ہمارے پاس جو آرڈر شیٹ ہے اس میں لکھا گیا ہے کہ جسٹس سید ارشد علی کمیٹی کا ممبر ہے اسیلئے وہ اس کیس کو نہیں سن سکتے جس پر عدالت نے کیس دوسرے بنچ کو ریفر کردیا۔ رٹ پٹیشن کی سماعت پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس سید ارشد علی اور جسٹس فرح جمشید پر مشتمل دو رکنی بنچ نے کی ۔عدالت میں وکیل درخواست گزار سلیمان ایڈوکیٹ، اسسٹنٹ اٹارنی جنرل پیش ہوئے۔ وکیل نے عدالت کوبتایا کہ جونیئر ججز کو سنیئر ججز پر فوقیت دینا غیر آئینی اور سپریم کورٹ فیصلوں کے خلاف اور آزاد عدلیہ کے تصور کے خلاف ہے آزاد عدلیہ لوگوں کی بنیادی حقوق کی محافظ ہے۔انہوں نے بتایاکہ پسند نا پسند کی بنیاد پر تعیناتی سے عدلیہ کی ساکھ متاثر ہورہی ہے۔سنیئر جج کو بغیر کوئی وجہ بتائے جونیئر ججز کی تعیناتی سیکشن اے 224 جنرل کلازیز ایکٹ 1897 کے خلاف ہے۔انہوں نے عدالت کو بتایاکہ سپریم کورٹ کے موجودہ چیف جسٹس کو بھی دو سنیئر ججز کو بائی پاس کر کیتعینات کیا گیا ہیاور یہ انصاف کی عدالت میں ناانصافی ہے لہذا اس کو کالعدم قراردیا جائے۔اسسٹنٹ اٹارنی جنرل راحت علی نحقی نے عدالت کو بتایا کہ اس کیس میں عدالت نے حکم دیا ہے کہ اس کیس کو دوبارہ بنچ نمبر تین میں سماعت کے لئے مقرر نہ کیا جائے کیونکہ سینئر رکن کمیٹی کے ممبر ہیں اور ہمارے پاس جو آرڈر شیٹ ہے اس میں لکھا ہے کہ جسٹس سید ارشد علی کمیٹی کا ممبر ہے اسلئے وہ اس کیس کو نہیں سن سکتے۔اس دوران وکیل درخواست گزار نے عدالت کوبتایا کہ گزشتہ سماعت پر اس کیس کو عدالت نے ملتوی کیا تھا آرڈر شیٹ فائل پر موجود ہے جس پر جسٹس سید ارشدعلی نے کہا کہ ہمارے پاس بھی ایک آرڈر ہے اور اس میں کیس ملتوی کیا گیا ہے۔ وکیل درخواست گزار نے عدالت کوبتایا کہ یہ دوسرا آرڈر شیٹ کہاں سے آگیا ہے، عدالت اس کی انکوائری کریں،ایک ہی کیس میں ایک ہی دن دو آرڈر شیٹ کیسے آسکتے ہیں جبکہ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ موجودہ آرڈر شیٹ کے مطابق جسٹس سید ارشدعلی کمیٹی کے ممبر ہونے کے باعث اس کیس کو سن نہیں سکتے اس کیس کو دوسرے بنچ کو ارسال کیا جائے جبکہ وکیل درخواست گزار نے عدالت کوبتایا کہ ہمارے لئے تمام ججز محترم ہیں ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے یہ بنچ اس کیس کو سنیں۔جسٹس سید ارشدعلی نے کہا کہ اس کیس کو ملتوی کرتے ہیں عدالت نے قرار دیا کہ اس کیس کو کوئی اور بنچ سنیں گا عدالت نے سماعت ملتوی کرتے ہوئے چیف جسٹس کو کیس کو دوسرے بنچ کے سامنے لگانے کے لئے ارسال کردیا۔







