پشاور سیشن کورٹ نے پولیس حراست میں شہری کی ہلاکت کے کیس میں نامزد دو پولیس اہلکاروں سمیت تین ملزمان کی عبوری ضمانت درخواستیں خارج کردی پولیس نے تینوں ملزمان کو کمرہ عدالت سے حراست میں لے لیا گیا۔کیس کی سماعت ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج طلا محمد نے کی ۔پراسیکیوشن نے عدالت کو بتایا کہ پولیس اہلکار مطیع اللہ اور سعود خان سفید ڈھیری کے پولیس پوسٹ میں تعینات تھے دونوں پولیس اہلکاروں نے ساتھی ملزم محمد یونس کے ساتھ ملکر گاڑی چوری کے الزام میں ایک زخمی شہری کو حراست میں رکھا ، حراست کے دوران شہری محمد اعجاز سکنہ ریگی کی موت واقع ہوئی تینوں ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں زیر حراست ملزم پر جسمانی تشدد کیا ، واقعے کی انکوائری جوڈیشل مجسٹریٹ پشاور نے کی اور ایف آئی اے نے انکوائری کے بعد پولیس اہلکاروں سمیت تین افراد پر مقدمہ درج کیا۔ مقدمہ درج کرنے کے بعد دونوں پولیس اہلکاروں اور ساتھی ملزم نے عدالت سے عبوری ضمانت کے لیے رجوع کی اس دوران عدالت کو بتایا گیا درخواست گزاروں نے زخمی شہری کو دی علاج معالجے کی سہولت فراہم نہیں کی جس کے باعث انکی موت واقع ہوئی دوسری درخواست گزاروں کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ زیر حراست شہری کو زخمی حالت میں پولیس پوسٹ لایا گیا شہری کے سر پر شدید چوٹ لگی جس کے باعث انکی موت ہوئی تھی ، عدالت نے دلائل سننے کے بعد تینوں ملزمان کی ضمانت درخواستیں خارج کردی جس پر پولیس نے تینوں ملزمان کو کمرہ عدالت سے حراست میں لے لیا۔







