کراچی، لاہور اور اب پشاور میں بھی مین ہول کے ڈھکن غائب ہو رہے ہیں جس سے شہریوں کی زندگی خطرے میں پڑ گئی، بتایا گیا ہے کہ پشاور کی 42 یونین کونسلز میں 6 ہزار سے زائد مقامات پر مین ہولز کے ڈھانچے ہی غائب ہیں یا ٹوٹ چکے ہیں، جس کے باعث شہریوں کی حفاظت کو سنگین خطرہ لاحق ہے۔یہ معلومات واٹر اینڈ سینیٹیشن سروسز پشاور کے دستاویزات میں سامنے آئی ہیں جس میں بتایا گیا ہے کہ ایک ہزار 707مین ہولز کے ڈھکن 15ٹن وزن برداشت کرنے کیلئے بنائے گئے ہیں جو حالیہ دنوں یا تو کھلے ہوئے ہیں یا ان کے ڈھانچے ٹوٹ چکے ہیں۔ اسی طرح 3ہزار169 مین ہولز جو چھ ٹن وزن کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہیں کھلے ہیں۔دستاویزات کے مطابق 1ہزار384 مین ہولز جو دو ٹن وزن کے لیے بنائے گئے ہیں یا تو کھلے ہیں یا ان کے ڈھانچے خراب ہیں، ڈبلیو ایس ایس پی نے مقامی حکومت کو خط لکھ کر ان مین ہولز پر ڈھانچے نصب کرنے کے لیے فنڈز کی درخواست کی ہے، تاکہ ان پر ڈھکن لگا کر اسے محفوظ بنایا جا سکے۔دستاویز کے مطابق مختلف اقسام کے مین ہولز کے ڈھانپے لگانے کے لیے کل 5کروڑ 79لاکھ روپے کی ضرورت ہے، شہریوں کا کہنا ہے کہ کھلے مین ہولز کے باعث پیدل چلنے والے افراد، بچے اور موٹرسائیکل سوار شدید خطرے میں ہیں، اور فوری اقدامات نہ کیے جانے کی صورت میں حادثات کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔







