پاکستان نے افغانستان کو ہرا کر تین ملکی کپ جیت لیا
پاکستان نے افغانستان کو ہرا کر تین ملکی کپ جیت لیا۔
شکیل الرحمان
پاکستان کرکٹ کی تاریخ رہی ہے کہ جس ٹورنامنٹ میں بھی شائقین کرکٹ ناامید ہوتے ہیں تو یہ شاہین ہمیشہ سرپرائز کر دیتے ہیں اور ایک بار پھر پوری دنیا نے دیکھا کہ کس طرح اس نوجوان ٹیم نے نہ صرف 141 کے ہدف کا دفاع کیا بلکہ افغانستان کو 75 رنز کی تاریخی شکست دے دی۔
کسی کو بھی توقع نہیں تھی کہ 141رنز کا دفاع ہوسکے گا لیکن یہ رات محمد نواز کی تھی جس طرح کی لاین و لینتھ نواز نے اپنایی افغانستان کے بیٹرز کو بے بس کردیا اور اچھی کارکردگی کے باوجود ایک بار پھر افغانستان پاکستان سے شکست کھا گیا۔محمد نواز مین آف دی میچ اور مین آف دی سیریز کا ایوارڈ لے أڑے۔
پاکستان نے سہہ ملکی کپ واضح مارجن سے جیت لیا۔شارجہ میں کھیلے گئے فائنل میچ میں اس نے افغانستان کو 75 رنز سے ہرا کر کپ اپنے نام کیا۔پورےسیریز کے ہیرو سپنر محمد نواز تھے،جنہوں نےفاینل میں ہیٹ ٹرک کی اور افغان بیٹنگ لائن اپ کو تہس نہس کردیا۔
پاکستان نے ان کی مدد سے 28 سے 32 رنز کے دوران 20 گیندوں میں 4 رنز دے کر 5 وکٹیں لیں۔ان میں نواز کی ایک رن کے عوض 4 وکٹیں تھیں۔پاکستان نے ٹاس جیت کر جھٹ پہلے بیٹنگ کا اعلان کیا لیکن یہ کیا،اس کے بیٹرز بیٹنگ پچ پر پورے 20 اوورز مشکلات میں رہے۔پہلی وکٹ صفر پر گری۔صاحبزادہ فرحان انڈے پر گئے۔صائم ایوب اور فخرزمان سکور کو 49 تک ضرور لے گئے لیکن 8 اوورز کھیل گئے۔رن اوسط خراب رہی۔یہاں صائم ایوب 19 بالز پر 17 کر کےکیچ دے گئے۔2 رنز کے اضافے کے ساتھ ہی دوسرے سیٹ بیٹر فخرزمان 26 بالز پر 27 کرکے گئے۔69 پر حسن نواز15 اور 72 کے اسکور پر محمد حارث3 بالز پر 2 کرکے پویلین لوٹ گئے۔پاکستان کی آدھی ٹیم 72 پر باہر تھی اور 12 واں اوور جاری تھا۔
سلمان علی آغا اور محمد نواز چھٹی وکٹ پر سکور کو 112 تک لے جانے میں کامیاب رہے۔یہاں سلمان علی آغا 27 بالز پر 24 کرکے اپنے کھلاڑیوں کے پاس بیٹھنے چلے گئے۔فہیم اشرف 15 اور محمد نواز بھی 25 سے آگے نہ جاسکے۔پاکستان نے مقررہ 20 اوورز میں 8 وکٹ پر صرف 141 رنزبنائے۔راشد خان نے 38 رنز دے کر3،فضل حق فاروقی نے 19 اور نور احمد نے 17 رنز دے کر 2،2 وکٹیں لیں۔جواب میں افغانستان نے ٹائٹل کیلئے اننگ شروع کی تو 7 کے سکور پر شاہین شاہ آفریدی نے اسے بڑا دھچکا لگایا،جب ٹاپ پلیئر رحمان اللہ گرباز5 رنز بناکر سلپ میں صاحبزادہ فرحان کو کیچ دے گئے۔28 کے سکور پر پاکستان کو دوسری کامیابی ملی جب صدیق اللہ عطال 13 رنزبناکر ابرار احمد کا شکار بنے۔ایک رن کے اضافہ سے درویش رسول صفر،اسی 29 کے سکور پر عظمت اللہ عمر زائی صفر پر گئے۔پہلے کو محمد نواز نے ایل بی کیا،دوسرے کو وکٹ کیپر کے ہاتھوں کیچ کروایا۔وہ مسلسل 2 ابلز پر 2 وکٹ لے گئے۔اوور کے بعد آئے تو ہیٹ ٹرک پر تھے،انہوں نے ابراہیم زدران کو وکٹ کیپر محمد حارث کے ہاتھوں اسٹمپ کروادیا۔یوں انہوں نے ہیٹ ٹرک کرلی اور افغانستان4.3 اوورز میں 28 رنز ایک وکٹ سے 7.1 اوورز تک 32 رنز پر5 وکٹ سے محروم ہوگیا۔۔اسی اوور میں اسی سکور پر کریم جنت کو ایل بی ڈبلیو کردیا۔32 رنز پر 6 وکٹ گرچکے تھے۔کپتان راشد خان نے محمد نواز کو چھکا لگا کر دبائو کم کرنے کی کوشش کی۔
نبی اور راشد خان سکور کو 46 تک لے گئے۔یہاں محمد نبی3 رنزبناکر ابرار احمد کی بال پر کیچ دے گئے۔55 کے سکور پر راشد خان 17 رنزبناکر محمد نواز کا ہی شکار بن گئے۔2 رنزکے اضافہ سے نور احمد سفیان مقیم کی بال پر کیچ دے گئے۔
افغانستان کی آخری وکٹ بھی66 رنز پر گرگئی۔ٹیم 15.5 اوورز میں 66 رنزبناکر آئوٹ ہوئی۔پاکستان نے 75 رنز سے یہ فائنل میچ جیت لیا۔پاکستان کی جانب سے محمد نواز نے 4 اوورز میں 19 رنز دے کر 5 وکٹیں لیں،جس میں ہیٹ ٹرک بھی تھی۔ ابرار احمد نے16 رنز دے کر 2 آئوٹ کئے۔سفیان مقیم نے 2.5 اوورز میں 9 رنز دے کر 2 وکٹیں لیں۔