وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور کی میزبانی میں پیر کے روز "دہشتگردی کے خلاف قوم کا اتحاد” کے عنوان سے مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں کا ایک مشاورتی اجلاس خیبر پختونخوا ہائوس اسلام آباد میں منعقد ہوا جس میں جماعت اسلامی، جمعیت علماء پاکستان، عالمی مجلس ختم نبوت، مجلس وحدت المسلمین، اسلامی تحریک، مرکزی علماء کونسل،تحریک منہاج القرآن، جماعت اہل حدیث، پاکستان مرکزی مسلم لیگ، پاکستان تحریک انصاف اوردیگر مذہبی و سیاسی جماعتوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ مشاورتی اجلاس میں شریک اہم رہنماؤں میں بیرسٹر گوہر، اسد قیصر ،محمد علی درانی، پروفیسر ابراہیم، لیاقت بلوچ، صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر، قاری محمد شیخ یعقوب، سید ناصر عباس شیرازی، پیر سید ہارون علی گیلانی، علامہ عارف حسین واحدی، بیرسٹر محمد علی سیف، علامہ ابتسام الٰہی ظہیر، صاحبزادہ زاہد محمود قاسمی، مولانا حامد الحق،مولانا یوسف شاہ، عبدالغفار روپڑی، قمر قطب الدین،علامہ حامد رضا،ابراہیم قاسمی، اسماعیل بلیدی، علامہ شبیر حسین، مولانا عبدالواسع، علامہ احمد اقبال رضوی،زاہد علی اخونزادہ،حافظ خالد ولید، پیر نورالحسنین گیلانی، عنایت اللہ، سمیع اللہ خان، وسیم اظہر ترابی، پیر پگاڑہ صبغت اللہ راشدی،محمد تابش قیوم، اسرار مدنی، حافظ فضل الرحمن خلیل، بخت زمین اور دیگر شامل تھے۔ وزیر اعلیٰ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مشاورتی اجلاس بانی چیئرمین عمران خان کی ہدایت پر منعقد کیا جا رہا ہے جس کا مقصد ملک میں دہشت گردی، فرقہ واریت، لسانیات، صوبائیت کے خلاف اور ملک میں قانون کی حکمرانی کیلئے قومی سطح پر ایک جامع پالیسی کی تشکیل کے سلسلے میں مشاورت کرنا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ ” میں بانی چیئرمین اور اپنی طرف سے اس مشاورتی نشست میں شریک تمام زعماء کا مشکور ہوں۔ اس اجلاس میں مختلف جماعتوں اور مکاتب کے زعماء کی اتنی بڑی تعداد میں شرکت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ہمیں قومی یکجہتی کی اشد ضرورت ہے۔ ماضی کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے آج ملک اس صورتحال سے دو چار ہے جبکہ ملک میں دہشت گردی، فرقہ واریت، لسانیات، صوبائیت اور لاقانونیت عروج پر ہے، آج ہمیں سوچنے کی ضرورت ہے کہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کیلئے کس طرح کا ملک چھوڑ کر جارہے ہیں، اگر ہم نے اپنی آنے والی نسلوں کیلئے ایک بہتر ملک چھوڑنا ہے







