شعیب جمیل
پشاورہائیکورٹ نے خیبرپختونخوا کلچر اینڈ ٹوارزم اتھارٹی کے ملازمین کے کنٹریکٹ میں توسیع سے متعلق نظرثانی درخواست منظور کرتے ہوئے اس حوالے سے سابق رٹ پٹیشن خارج کرنے کا فیصلہ واپس لے لیا اور کیس بورڈ آف ڈائریکٹرخیبرپختونخوا کلچراینڈٹوارزم اتھارٹی کوارسال کرتے ہوئے قراردیا کہ وہ اس حوالے سے فیصلہ کرے ۔جسٹس ارشد علی اور جسٹس فضل سبحان پر مشتمل دورکنی بنچ نے شمائل احمد بٹ اوربلال تنگی ایڈوکیٹس کی وساطت سے دائر ندیم احمدسمیت 63درخواست گزاروں کی نظرثانی درخواست پر سماعت کی جو انہوں نے رٹ پٹیشن خارج ہونے پر دائر کی تھی۔ رٹ میں موقف اپنایا گیا تھا کہ صوبائی اسمبلی نے خیبرپختونخوا ٹوارزم ایکٹ 2019منظور کیا تھا تاکہ وہ سیاحت و ثقافتی ورثہ کے فروغ، ترقی، مینجمنٹ اور مارکیٹنگ کیلئے کام کرسکے اور اس کیلئے خیبرپختونخوا کلچر اینڈ ٹوارزم اتھارٹی قائم کی گئی جس کیلئے ان درخواست گزاروں کو بھی شارٹ لسٹ کیا گیا اور ان سے سلیکشن کمیٹی نے انٹرویوبھی لیا۔ابتدامیں انکی تین سال کے عرصے کیلئے کنٹریکٹ پر تقرری ہوئی تاہم تین سال کا عرصہ مکمل ہونے پرانکے کنٹریکٹ میں توسیع نہیں کی گئی ۔ رٹ کے مطابق انہوں نے بورڈ آف ڈائریکٹرز کو 23اگست 2024کو آگاہ کیا تاہم اس حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا گیاجبکہ یقین دہانی کے باجود حکومت نے بھی انکے کنٹریکٹ میں توسیع یا مستقلی سے متعلق کوئی اقدام نہیں اٹھایا ۔رٹ میں مزید کہاگیا تھاکہ درخواست گزار وں کو مستقل کرناچاہیے جو ان کا حق ہے







