شعیب جمیل
پشاور ہائیکورٹ نے ایم ٹی آئی بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین اور ممبران کو عہدوں سے ہٹانے کیخلاف دائر توہین عدالت درخواست پر آج چیف سیکرٹری اور ہیلتھ سیکرٹری کو طلب کرلیا ہے ۔ توہین عدالت درخواست کی سماعت جسٹس اعجاز انور اور جسٹس سید ارشد علی پر مشتمل دو رکنی بنچ نے کی۔ وکیل درخواست گزار بیرسٹر بابر عمران نے عدالت کو بتایا کہ عدالتی حکم امتناعی کے باوجود ایم ٹی آئی کے بی او جی چیئرمین اور ممبران کو عہدے سے ہٹایا گیا۔ جس پر جسٹس اعجاز انور نے ریمارکس دیے کہ جس سیکرٹری ہیلتھ نے یہ آرڈر کیا ہے اسی سیکرٹری کو بلالیں جس کے جواب میں ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ اس سیکرٹری ہیلتھ کا تبادلہ ہوا ہے جس کے جواب میں جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ ایسا تو نہیں ہوسکتا کہ ایک سیکرٹری سے غیرقانونی کام لیا جائے اور پھر کسی اور جگہ ٹرانسفر کیا جائے اس موقع پر اے اے جی نے عدالت کو بتایا کہ ان درخواست گزاروں کی برطرفی عدالتی حکم امتناعی سے پہلے ہو چکی تھی جس پر جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا تھا کہ ابھی تک کچھ نہیں ہوا ہے, حکم امتناع جاری نہ کریں ،ایڈووکیٹ جنرل عدالت میں پیش ہوئے تھے ان کو سب چیزوں کا پتہ ہوتا ہے ایسے تو عدالت میں پیش نہیں ہوتے۔ آ پ اس دن عدالت میں موجود نہیں تھے ایسا نہ کہے کہ اے جی کو علم نہیں تھا۔ایڈووکیٹ جنرل خود عدالت میں پیش ہوکر بتائے کہ مجھے علم نہیں تھا لاعلمی میں ایسا کہا تھا، جس سیکرٹری ہیلتھ نے یہ آرڈرکیا ہے وہ کل پیش ہوں ۔عدالت نے چیف سیکرٹری اور اس وقت کے سیکرٹری ہیلتھ کو آج طلب کرلیا عدالت نے مزید سماعت آج تک ملتوی کردی ۔







