۔سپریم کورٹ نے شوکت عزیز صدیقی برطرفی کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے 23 صفحات کا فیصلہ تحریر کیا جس کے مطابق شوکت عزیز صدیقی بطور ریٹائرڈ جج پنشن سمیت تمام مراعات کے حقدار قرار ہوں گے۔
سپریم کورٹ نے فیصلے میں تسلیم کیا کہ بدقسمتی سے شوکت عزیز صدیقی کے مقدمے کے فیصلے میں تاخیر ہوئی جس کی وجہ سے شوکت عزیز صدیقی ریٹائرمنٹ کی عمر تک پہنچ گئے اس لیے ریٹائرمنٹ عمر کی وجہ سے اب انہیں بطور جج بحال نہیں کیا جا سکتا۔
تفصیلی فیصلے میں لکھا ہے کہ بلاشبہ شوکت صدیقی نے فیض حمید پر سنگین الزامات لگائے لیکن شوکت صدیقی کو اپنے الزامات ثابت کرنے کا موقع فراہم نہیں کیا گیا۔ عدالت نے اس خامیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کو نوٹس جاری کیے جن پر الزامات لگائے گئے لیکن سب نے الزامات سے انکار کیا، یہ ضروری تھا کہ جوڈیشل کونسل ان الزامات کی تحقیقات کرتی کہ کون سچ بول رہا ہے مگر شوکت عزیز صدیقی کو شفاف ٹرائل کے حق سے محروم رکھا گیا۔
آرمی چیف اور وفاقی حکومت کی جانب سے دو شکایات بھیجی گئیں جن میں الزامات کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا تھا، شوکت صدیقی کے الزامات کی تحقیقات اس لیے بھی ضروری تھیں کیونکہ آرمی چیف اور وفاقی حکومت کو ان الزامات کی سنگینی کا ادراک ہی نہیں تھا، وہ وفاقی حکومت جو 24 جولائی 2018 کے خط میں یہ کہہ رہی تھی کہ الزامات کا تعین ہونا چاہیے اسی حکومت نے 10 جون 2021 کو ایک بیان جمع کروایا کہ یہ الزامات ہی بے بنیاد ہیں، اٹارنی جنرل کے ذریعے جمع کروائے گئے بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ شوکت صدیقی کے الزامات بے بنیاد تھے۔
سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بینچ نے 23 جنوری کو شوکت صدیقی کیس فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ کیس کی آخری سماعت میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے ریمارکس دیے تھے کہ تمام فریقین تسلیم کر رہے ہیں مکمل انکوائری نہیں ہوئی۔







