سائبیریا سے براستہ خیبر پختونخوا پاکستان ہجرت کرنے والے پرندوں کی تعداد میں نمایاں کمی ایک پریشان کن علامت ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ یہ پروں والے زائرین پاکستان کے قدرتی ورثے کا ایک لازمی حصہ رہے ہیں جو پرندوں کو دیکھنے والوں کے لیے خوشی لاتے ہیں اور ماحولیاتی توازن میں حصہ ڈالتے ہیں تاہم موسمیا تی تبدیلی کے باعث ان کی آمد میں بہت زیادہ کمی آئی ہے جبکہ مقامی پرندے پہلے ہی کم ہو چکے ہیں ۔ اگر چہ اس حوالے سے ملک میں کوئی ایسے قابل اعتبار اعداد وشمار تو موجود نہیں ہیںکہ کتنی اقسام کے مقامی و پر دیسی پرندے خیبر پختونخوا و پنجاب سمیت ملک بھر میں ناپید ہو گئے ہیں ۔ یہ صورت حال محکمہ جنگلی حیات اور موسمیاتی تبدیلی کے لئے لمحہ فکریہ ہو نا چاہیے کہ ہمارا قدرتی ماحول کس قدر خراب ہو چکا ہے۔ حال ہی میں پنجاب وائلڈ لائف کے تحقیقی مرکز کی جانب سے کیے گئے حالیہ سروے میں ان عوامل کو دور کرنے کی فوری ضرورت پر روشنی ڈالی گئی ہے جو ان پرندوں کی آبادی میں کمی کا باعث بن رہے ہیں۔ملک میں پر دیسی و مقامی پر ندوں کی کمی کی دیگر وجوہات کیساتھ ساتھ ایک وجہ پانی کی کمی اور آلودگی میں اضافہ بھی ہے اس کے علاوہ ، وہ علاقے جہاں پانی پایا جاتا ان میں بہت زیادہ شکار کی وجہ سے بھی مذکورہ پرندے اپنا راستہ تبدیل کرنے اور دیگر ممالک ہجرت کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں ۔ مزید برآں ماحولیاتی آلودگی نے ان نازک ماحولیاتی نظاموں کو کافی نقصان پہنچایا ہے۔اس میں صنعتی فضلہ، زرعی زمین کی خرابی اور بحال نہ کیے جانے والے نکاسی کے نظام نے بھی آبی ذخائر کو آلودہ کر دیا ہے جس سے وہ ان ہجرت کرنے والے پرندوں کے لیے ناقابل رہائش ہو گئے ہیں اور خوراک کا پورا سلسلہ درہم برہم ہو گیا ہے۔ ان مسائل کو حل کرنے کے لیے حکومت کو ہجرت کرنے والے پرندوں کے تحفظ کو ترجیح دینا چاہیے اور ان کے زوال کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہئیں ۔ ماحولیاتی قوانین کا سختی سے نفاذ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے بہت ضروری ہے کہ پانی کے ذخائر والے علاقوں کو آلودگی اور غیر قانونی شکار سے محفوظ رکھا جائے۔ تحقیق اور نگرانی کے پروگراموں میں سرمایہ کاری نقل مکانی کے نمونوں، آبادی کی حرکیات اور رہائش کی ضروریات کے بارے میں قیمتی بصیرت فراہم کر سکتی ہے۔ یہ علم ان پرندوں کی مخصوص ضروریات کو پورا کرنے والی موثر تحفظ کی حکمت عملیوں کی ترقی میں مدد کرے گا۔ حکومت کی طرف سے فوری کوششوں سے پانی کی دستیابی کو برقرار رکھنے، آلودگی کو کم کرنے اور ان اہم ماحولیاتی نظاموں کی حفاظت کے لیے بفر زون بنانے پر توجہ دینی چاہیے۔ آخر میں ہمسایہ ممالک خاص طور پر روس کے ساتھ تعاون پر مبنی اقدامات ہجرت کرنے والے پرندوں کے تحفظ کے لیے ایک جامع نقطہ نظر میں حصہ ڈال سکتے ہیں۔ادھرہجرت کرنے والے پرندوں کی شان و شوکت کو برقرار رکھنا نہ صرف ماحولیاتی اہمیت کا معاملہ ہے بلکہ قدرتی دنیا کے رکھوالوں کے طور پر ہمارے عزم کا ثبوت بھی ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ حکومت جنگلی حیات کے ماہرین اور مقامی برادریاں ان شاندار مخلوقات کو برقرار رکھنے والی رہائش گاہوں کی حفاظت و بحالی کے لیے مشترکہ کوششیں شروع کی جائیں ۔ اگر اس مسئلے پر حکومت کی جانب سے بھر پور توجہ دی گئی تو آنے والے بیس سال میں پرندوں کی بہت سے نسلوں کو مکمل طور پر ناپید ہو نے سے بچایا جاسکتا ہے ۔md.daud78@gmail.com







