کے پی انتخابات کیس’ کام زیادہ ‘ ججز کم ہیں’ جلد سماعت ہوگی’ ہائیکورٹ

پشاور ہائیکورٹ نے خیبر پختونخوا میں صوبائی اسمبلی کے انتخابات کے انعقادکے حوالے سے دائر رٹ کی سماعت ملتوی کردی جبکہ گورنرخیبر پختونخوا کو کام سے روکنے سے متعلق رٹ کو اسی سے علیحدہ کردیا تاہم قرار دیا کہ دونوں رٹ درخواستوں کو ایک ہی دن سنا جائیگا اس کے ساتھ ساتھ گورنر کی برطرفی اور اسے کام سے روکنے کیخلاف دائر رٹ میں گورنر خیبر پختونخوا، الیکشن کمیشن ،اور صوبائی حکومت سے جواب طلب کرلیا گیا چیف جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس وقار احمد پر مشتمل بنچ نے سپیکر صوبائی اسمبلی مشتاق غنی کی جانب سے دائر رٹ کی سماعت کی۔ دوران سماعت درخواست گزار کی جانب سے شمائل احمد بٹ نے دلائل دیئے جبکہ صوبائی حکومت کی نمائندگی ایڈوکیٹ جنرل عامرجاوید ، گورنر خیبر پختونخوا کی جانب سے طارق آفریدی، وفاق کی جانب سے ڈپٹی اٹارنی جنرل عبید اللہ انور جبکہ الیکشن کمیشن کی جانب سے کامران صدیق ایڈووکیٹ عدالت کے روبرو پیش ہوئے ۔کیس کی سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا میں الیکشن کیلئے تاریخ نہیں دی حالانکہ آئین کے مطابق صوبائی اسمبلی کی تحلیل کے 90 دن کے اندر اندر الیکشن کرانا لازمی ہے مگر صوبائی حکومت اور الیکشن کمیشن مختلف طریقوں سے اس کو طوالت دے رہے ہیں شمائل احمد بٹ نے عدالت کو بتایا کہ اس ضمن میں سپریم کورٹ نے واضح طور پر لکھا ہے کہ متعلقہ فورم پر رجوع کیا جائے پنجاب میں الیکشن کے لئے 14 مئی کی تاریخ دی مگر خیبر پختونخوا میں الیکشن کے انعقاد کیلئے تاریخ کی بجائے متعلقہ فورم سے رجوع کرنے کی ہدایت کی۔ جس پر چیف جسٹس مسرت ہلالی نے ان سے استفسار کیا کہ اس حوالے سے پہلے بھی درخواست گزار نے ایک رٹ پٹیشن دائر کی تھی اس کا کیا بنا ؟جس کے جواب میں انہوں نے عدالت کوبتایا کہ اس رٹ درخواست کو اسی بنیاد پر نمٹایا گیا کہ سپریم کورٹ نے ازخودنوٹس لیا اور انہوں نے الیکشن کی تاریخ کے انعقاد کیلئے خود ہی فیصلہ کرنا ہے مگر بعد میں صرف پنجاب کی حد تک ایسا کیا گیا۔ دوران سماعت پی ٹی آئی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ خیبر پختونخوا کے عوام کو ان کے جائز حق سے محروم رکھا جا رہا ہے آئین کے تحت الیکشن کا انعقاد لازمی ہے دوران سماعت ایڈوکیٹ جنرل نے عدالت کوبتایاکہ انہوں نے صوبائی حکومت کی جانب سے اس کیس میں جواب جمع کردیا ہے جبکہ گورنر خیبر پختونخوا حاجی غلام علی کے وکیل طارق آفریدی نے عدالت کو بتایا کہ ہم نے گورنر کی جانب سے جواب جمع کیا تھا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed