شعیب جمیل
پشاورہائیکورٹ کی چیف جسٹس مس مسرت ہلالی نے جوڈیشل کمپلیکس صوابی سمیت صوابی اور چارسد کے سب جیلوں کا دورہ کیاجہاں انہوں نے خواتین سائلین سمیت قیدیوں کے مسائل سنیں ۔جوڈیشل کمپلیکس دورے کے دوران انہوں نے عدالتی کارروائی کا مشاہدہ کیا اور مقدمات لڑنے والی خواتین کے مسائل سنیں اور انہیں حل کرنے کی ہدایات جاری کیں ۔گزشتہ روز دورے کے دوران چیف جسٹس نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج صوابی کو ہدایت کی کہ وہ ان خواتین سائلین کے معاملات سے موثر طریقے سے نمٹیں اور فیملی کورٹ میں طویل عرصے سے زیر التواءمقدمات کو جلد نمٹانے کیلئے اقدامات کریں ۔چیف جسٹس نے جوڈیشل کمپلیکس میں خواتین عدالتی عملہ ریڈر، کمپیوٹر آپریٹر اور نائب قاصد کو دیکھ کر خوشی کااظہار کیا۔انہوں نے بار کے نمائندوں سے بھی ملاقات کی اور سب جیل صوابی کا دورہ کیااوربیرکوں میں صفائی، کھانے کے معیار اورقیدیوں کیلئے دستیاب جگہ پر اطمینان کا اظہار کیا۔ سپرنٹنڈنٹ جیل نے انہیں بجلی کی مسلسل لوڈ شیڈنگ کے بارے میں آگاہ کیاجس پر انہوں نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کو ہدایت کی کہ وہ لوڈشیڈنگ کا معاملہ پیسکوحکام کے ساتھ اٹھائیں۔

سب جیل صوابی دورے کے دوران چیف جسٹس مس مسرت ہلالی نے قیدیوں سے بھی ملاقات کی اور ٹرائل کے حوالے سے ان کے مسائل سنیں۔اس دوران بعض قیدیوں کو چھوٹے و معمولی نوعیت کے مقدمات میں قید کیا گیا تھا جس پر چیف جسٹس نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کواس حوالے سے اقدامات اٹھانے اورجوڈیشل مجسٹریٹ کو جیل کا دورہ کرکے معمولی نوعیت کے مقدمات جلد از جلد فیصلہ کرنے کی ہدایت کی۔چیف جسٹس نے سب جیل چارسدہ کا بھی دورہ کیا اور انفرادی طور پر تمام بیرکوں کا معائنہ کیا جہاں گنجائش سے زیادہ قیدیوں کو رکھا گیاتھا ۔اس موقع پر سپرنٹنڈنٹ جیل اور ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج چارسدہ نے قیدیوں کیلئے جگہ کی کمی اوراضافی اراضی کے حصول کامسئلہ اٹھایا جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اس مسئلے کو متعلقہ فورم پر اٹھایں گے ۔ انہوں نے سیشن جج چارسدہ کوہدایت کی کہ وہ قیدیوں کے مسائل وشکایت کو باقاعدہ درج کریں اور معمولی نوعیت کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کیساتھ ساتھ مستحق مقدمات کےلئے پراسیکیوٹرز کا بندوبست کریں۔چیف جسٹس نے ڈسپنسری کا دورہ بھی کیااور جیل سپرنٹنڈنٹ کے انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا اور قیدیوں کے حقوق کے تحفظ پر توجہ دینے کی ہدایت کی







