عوامی نیشنل پارٹی خیبرپختونخوا کے صدر میاں افتخار حسین نے صوبے میں جاری طویل اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بجلی کی بندش کو عوام کے لیے ناقابلِ برداشت قرار دیا ہے۔میاں افتخار حسین کے مطابق شدید گرمی کے دوران خیبرپختونخوا کے دیہی علاقوں میں 22گھنٹے تک لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے، جبکہ شہری علاقوں میں بھی کئی کئی گھنٹے غیر اعلانیہ طور پر بجلی غائب رہتی ہے۔انہوں نے کہا کہ طویل لوڈشیڈنگ کے باعث کئی علاقوں میں پینے کے پانی کی فراہمی بھی متاثر ہو رہی ہے، جبکہ تعلیمی اداروں میں طلبہ شدید گرمی کے باوجود بجلی کے بغیر بیٹھنے پر مجبور ہیں۔صوبائی صدر اے این پی کا کہنا تھا کہ عوام سے بھاری بجلی کے بل وصول کرنے کے باوجود انہیں بنیادی سہولت سے محروم رکھنا ظلم اور ناانصافی ہے۔انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا ملک میں سب سے زیادہ اور سستی پن بجلی پیدا کرنے والا صوبہ ہے، لیکن اس کے باوجود صوبے کے عوام بجلی کی بنیادی سہولت سے محروم ہیں۔میاں افتخار حسین کا کہنا تھا کہ وفاق کے ذمے خیبرپختونخوا کا بجلی کا خالص منافع واجب الادا ہے، تاہم وفاق اپنے ذمے واجبات ادا کرنے اور صوبائی حکومت اپنا آئینی حق لینے میں سنجیدہ دکھائی نہیں دیتی۔انہوں نے کہا کہ عوام شدید گرمی، مہنگی بجلی، طویل لوڈشیڈنگ اور مہنگائی کے عذاب میں مبتلا ہیں، جبکہ حکمران ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈالنے میں مصروف ہیں۔میاں افتخار حسین نے مطالبہ کیا کہ خیبرپختونخوا میں ناروا لوڈشیڈنگ اور لو وولٹیج کا فوری خاتمہ کیا جائے، صوبے کو بجلی کے خالص منافع سمیت تمام آئینی و مالی حقوق ادا کیے جائیں اور عوام کو بلا تعطل بجلی کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔







