درآمدی جوتوں کی قابلِ ٹیکس قدر130 فیصد مقرر

ایف بی آر نے جوتوں اور سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کے تیسرے شیڈول کی شق نمبر 65 کے تحت آنے والی دیگر اشیا کی فروخت پر سیلز ٹیکس کے طریقہ کار میں ترمیم کرتے ہوئے درآمدی اشیا کے لیے قدر کا پیمانہ 130 فیصد مقرر کر دیا ہے۔ایف بی آر کے ان لینڈ ریونیو پالیسی ونگ کی جانب سے جاری کردہ تصحیح نامے کے مطابق، جس کی ایک نقل ویلتھ پاکستان کے پاس موجود ہے، نئے قواعد کا مقصد شق نمبر 65 سے متعلق سیلز ٹیکس کی دفعات کے نفاذ میں موجود ابہام کو دور کرنا اور یکساں طریقہ کار یقینی بنانا ہے۔ایف بی آر نے سیلز ٹیکس جنرل آرڈر نمبر 11، 2026 کے ساتھ منسلک موجودہ ضمیمہ اے واپس لے کر اس کی جگہ نیا ضمیمہ جاری کر دیا ہے۔ نیا ضمیمہ شق نمبر 65 کے دائرہ کار میں آنے والی اشیا کی فراہمی پر سیلز ٹیکس کے نفاذ، تعین اور وصولی کے لیے نافذ العمل ہوگا۔ترمیم شدہ طریقہ کار کے تحت رجسٹرڈ مینوفیکچررز کی جانب سے اپنے ایسے مراکز کے ذریعے جوتوں کی فروخت کو بھی شامل کیا گیا ہے جو ایف بی آر کے ڈیجیٹل نظام سے منسلک اور پوائنٹ آف سیل نظام کے تقاضوں کے مطابق ہوں۔نئے ضوابط میں درآمد کنندگان کی جانب سے رجسٹرڈ مینوفیکچررز یا ایف بی آر سے ڈیجیٹل طور پر منسلک اور پوائنٹ آف سیل نظام کے مطابق پرچون فروشوں کو اشیا کی فراہمی بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ ایسے پرچون فروشوں کی جانب سے براہِ راست درآمد کی جانے والی اشیا بھی اس دائرہ کار میں شامل ہوں گی جنہیں بعد ازاں حتمی صارفین کو فروخت کیا جائے گا۔ترمیم شدہ قواعد کے تحت ڈیجیٹل نظام سے منسلک رجسٹرڈ مینوفیکچررز یا رجسٹرڈ درآمد کنندگان کی جانب سے رجسٹرڈ کارپوریٹ اداروں، وفاقی یا صوبائی سرکاری محکموں، خودمختار اداروں اور قانونی حیثیت رکھنے والے اداروں کو ان کے ذاتی استعمال کے لیے فراہم کی جانے والی اشیا بھی شامل ہوں گی۔مقامی مینوفیکچررز کی جانب سے فراہم کی جانے والی اشیا پر سیلز ٹیکس کی وصولی سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کی دفعہ 2(46) میں متعین کردہ قیمتِ فراہمی کی بنیاد پر کی جائے گی۔تاہم شق نمبر 65 کے تحت آنے والی درآمدی اشیا پر سیلز ٹیکس کسٹمز ایکٹ 1969 کی دفعہ 25 کے تحت متعین کردہ قدر کے 130 فیصد کے برابر قیمت پر عائد اور وصول کیا جائے گا۔ اس قدر میں قابلِ اطلاق کسٹمز ڈیوٹی اور وفاقی ایکسائز ڈیوٹی بھی شامل ہوگی۔ایف بی آر نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ متعلقہ پرچون فروش اشیا کی ریٹیل قیمت کے مطابق ٹیکس ادا کرے گا۔ اس طریقہ کار کے لیے ضروری ہوگا کہ سپلائر اور پرچون فروش دونوں ایف بی آر کے ڈیجیٹل نظام سے منسلک اور پوائنٹ آف سیل نظام کے تقاضوں کے مطابق ہوں جبکہ لین دین کے لیے ڈیجیٹل ٹیکس رسیدیں جاری کی جائیں گی۔یہ تصحیح نامہ یکم جولائی 2026 سے مثر سمجھا جائے گا اور اسے 17 جولائی 2026 کو جاری کیے گئے سیلز ٹیکس جنرل آرڈر نمبر 11، 2026 کے ساتھ ملا کر پڑھا جائے گا۔ایف بی آر نے واضح کیا ہے کہ سابقہ جنرل آرڈر کی وہ تمام دفعات جن میں تصحیح نامے کے ذریعے کوئی تبدیلی نہیں کی گئی، بدستور برقرار رہیں گی اور پوری طرح نافذ العمل ہوں گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed