پشاور ہائیکورٹ نے ایک غیر سرکاری تنظیم مفکورہ کے اثاثہ جات کے تنازعے پر ایس پی کینٹ اور دیگر افراد کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے سیشن کورٹ کے فیصلے کو معطل کرتے ہوئے پولیس اور دیگر متعلقہ حکام کے خلاف مقدمہ درج کرنے سے روک دیا ۔پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس سید ارشد علی اور جسٹس خورشید اقبال پر مشتمل بنچ نے ایس پی کینٹ کی جانب سے دائر رٹ پٹیشن کی سماعت کی ۔دوران سماعت ایس پی کینٹ کے وکیل نے عدالت کوبتایا کہ ایک غیر سرکاری تنظیم مفکورہ کے اثاثہ جات دوسرے فریق کے ساتھ تنازعہ تھا،اور اس تنظیم نے عدالت میں موقف اپنایا کہ پولیس حکام نے غیرقانونی طریقے سے ان کے اثاثوں کو دوسرے فریق کے حوالے کیا جو کہ درست نہیں اور انکے خلاف مقدمہ درج کیا جائے۔ جس پر سیشن کورٹ نے ایس پی کینٹ کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا تھا تاہم یہ دیوانی تنازعہ ہے اور اس پر فوجداری کا مقدمہ درج نہیں ہو سکتا۔ عدالت نے ابتدائی دلائل کے بعد سیشن کورٹ کا حکم معطل کر دیا۔تحریری حکم نامہ کے مطابق ایک فلاحی تنظیم کی اثاثوں کی تنازعہ پر سیشن کورٹ نے 22 اے کی درخواست پر فیصلہ دیا تا ہم درخواست گزار نے ایڈیشنل سیشن جج کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی ۔عدالت نے سیشن جج کا حکم معطل کر دیا اور جواب طلب کر لیا۔







