امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن پر شدید ہنگامے کے دوران 7 امریکی بحری اہلکاروں کی ہلاکت اور متعدد کے زخمی ہونے کا ایرانی دعوی سامنے آیا ہے۔ایرانی خبر رساں ادارے نے ایک باخبر فوجی ذریعے کے حوالے سے دعوی کیا کہ یہ واقعہ طویل عرصے سے جاری تعیناتی کے باعث جہاز کے عملے میں بڑھتی ہوئی بے چینی کے بعد پیش آیا۔رپورٹ کے مطابق جہاز کے عملے کے اہلکاروں کے اہل خانہ بھی طویل تعیناتی کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ ان شکایات کے بعد امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ بریڈ کوپر کے ایک مشیر کو صورتحال کا جائزہ لینے اور عملے سے بات چیت کے لیے طیارہ بردار جہاز پر بھیجا گیا۔مشیر نے جب اہلکاروں کے ایک اجتماع سے خطاب شروع کیا تو وہاں موجود بعض افراد نے شدید احتجاج کیا۔ رپورٹ میں دعوی کیا گیا ہے کہ مشیر کے خطاب کے دوران ان کے خلاف نعرے بازی کی گئی اور ان کی جانب پانی کی بوتلیں بھی پھینکی گئیں۔ذرائع کے مطابق صورتحال اس وقت مزید کشیدہ ہوگئی جب عملے کے بعض ارکان کے درمیان جھگڑا شروع ہوگیا۔ دعوی کیا گیا ہے کہ جھگڑے کے دوران چاقو اور دیگر دھار دار اشیا استعمال کی گئیں، جس کے نتیجے میں 7 اہلکار ہلاک جبکہ کئی دیگر زخمی ہوگئے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ واقعے کے بعد جہاز پر سکیورٹی مزید سخت کردی گئی اور صورتحال پر قابو پانے کی کوشش کی گئی۔ تاہم فراہم کردہ معلومات میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ واقعے میں ہلاک اور زخمی ہونے والے اہلکاروں کی شناخت کیا ہے۔دوسری جانب اس واقعے کے حوالے سے امریکی محکمہ دفاع یا امریکی بحریہ کی جانب سے فراہم کردہ متن میں کوئی باضابطہ تصدیق شامل نہیں ہے، اس لیے ہلاکتوں اور واقعے کی مکمل تفصیلات کی آزادانہ تصدیق تاحال نہیں ہو سکی۔







