عالمی عدالت کی بندش سے افغان خواتین کیلئے انصاف کا آخری دروازہ بند

انٹرنیشنل کریمنل کورٹ کی بندش سے افغان خواتین کے لیے انصاف کا آخری دروازہ بھی بند ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا۔عالمی جریدے نے انٹرنیشنل کریمنل کورٹ بند ہونے سے طالبان رہنماں کو ان کے جرائم سے چھوٹ ملنے کے خطرے سے خبردار کردیا ہے۔برطانوی جریدہ کے مطابق اقتدارپرقبضے کے بعدعسکریت پسند گروہ طالبان نے افغانستان میں دنیا کا بدترین اور انتہائی جنسی تعصب پر مبنی نظام قائم کیا ہے۔ طالبان رجیم کے افغانستان میں اقتدار پر قبضے کے بعد خواتین اور لڑکیوں پر سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔افغان خواتین کوآزادانہ نقل و حرکت، ملازمت اور تعلیم کے بنیادی حق سے محروم کردیا گیا ہے۔ افغان خواتین کے پاس انصاف کے راستے پہلے ہی انتہائی محدود ہیں اور اب یہی عالمی عدالت ان کی دادرس کا آخری ذریعہ رہ جاتی ہے ۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انٹرنیشنل کریمنل کورٹ نے بعض طالبان رہنماوں کیخلاف خواتین اور لڑکیوں کیخلاف مبینہ جرائم پر گرفتاری کے وارنٹ جاری کررکھے ہیں ۔ انٹرنیشنل کریمنل کورٹ کی بندش سے طالبان رہنماں اور نیتن یاہو جیسے مجرموں کو قانون سے بچنے کا موقع مل جائے گا ۔ماہرین کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ بین الاقوامی انصاف کامقصد صرف ماضی کے جرائم کی سزا دینا نہیں بلکہ مستقبل کے جرائم کوروکنا بھی ہے۔ اگر طاقتور اورظالم حکمرانوں کو یہ یقین ہو جائے کہ انہیں کبھی جوابدہ نہیں بنایا جائے گا تو جنگی جرائم، انسانیت کیخلاف جرائم اور نسل کشی کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed