جرنلسٹس پروٹیکشن ایکٹ پر عملدرآمد’ پشاور ہائیکورٹ سے رجوع

صحافی عدنان خان نے اپنی گاڑی چوری کے مقدمے میں مبینہ ناقص تفتیش اور خیبرپختونخوا جرنلسٹس پروٹیکشن ایکٹ 2021 پر موثرعمل درآمد نہ ہونے کے خلاف پشاور ہائیکورٹ میں آئینی درخواست دائر کر دی۔درخواست منظور بشیر ایڈووکیٹ کی وساطت سے دائر کی گئی ہے، جس میں صوبائی حکومت، آئی جی، سی سی پی او،پشاور، ایس ایچ او تھانہ فقیر آباد سمیت دیگر متعلقہ حکام کو فریق بنایا گیا ہے۔درخواست میں مقف اختیار کیا گیا ہے کہ درخواست گزار عدنان خان ایک صحافی ہیں اور پشاور میں مقیم ہیں۔ ان کی موٹر کار 24 اکتوبر 2024 کی شام دلہ زاک روڈ سے چوری ہوئی تھی، جس کا مقدمہ تھانہ فقیر آباد میں نامعلوم ملزمان کے خلاف دفعہ 381-اے کے تحت درج کیا گیا، تاہم کئی ماہ گزرنے کے باوجود پولیس نہ تو گاڑی برآمد کر سکی اور نہ ہی اصل ملزمان کو گرفتار کر سکی۔درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ تھانہ فقیر آباد پولیس کی جانب سے کی جانے والی مبینہ ناقص اور غیر قانونی تفتیش کو کالعدم قرار دیا جائے اور آزاد و تجربہ کار جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) یا کسی باصلاحیت افسر کے ذریعے شفاف تحقیقات کرانے کا حکم دیا جائے۔مزید استدعا کی گئی ہے کہ متعلقہ حکام کو چوری شدہ گاڑی کی فوری بازیابی، ملزمان کی گرفتاری اور مقدمے کی مثر تفتیش کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کرنے کا پابند بنایا جائے، جبکہ ناقص اور غیر تسلی بخش تفتیش کے ذمہ دار پولیس اہلکاروں کے خلاف محکمانہ اور فوجداری کارروائی بھی عمل میں لائی جائے۔درخواست میں عدالت سے یہ بھی استدعا کی گئی ہے کہ مبینہ پولیس مقابلوں میں ملزمان کی ہلاکت کے بعد بند کیے جانے والے مقدمات کی رپورٹس طلب کی جائیں اور صوبے میں جرنلسٹس پروٹیکشن ایکٹ 2021 پر اس کی حقیقی روح کے مطابق عمل درآمد یقینی بنایا جائے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed