خیبرپختونخوا میں خواتین اور بچیوں کے خلاف تشدد کے خاتمے سے متعلق مجوزہ پالیسی پر مشاورتی اجلاس محکمہ قانون، حکومت خیبرپختونخوا کے کمیٹی روم میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں لیبر ڈیپارٹمنٹ، محکمہ صحت، پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ، لوکل گورنمنٹ، ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن، ہائیر ایجوکیشن، سوشل ویلفیئر، محکمہ داخلہ و قبائلی امور، خیبرپختونخوا پولیس، محکمہ جیل خانہ جات، ڈائریکٹوریٹ جنرل پراسیکیوشن، ڈائریکٹوریٹ جنرل لا اینڈ ہیومن رائٹس خیبرپختونخوا، محتسب سیکرٹریٹ خیبرپختونخوا، یو این ویمن، وزارت انسانی حقوق اور صوبائی کمیشن برائے وقارِ نسواں خیبرپختونخوا سمیت تمام متعلقہ اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

اجلاس کے دوران ڈائریکٹر جنرل لا اینڈ ہیومن رائٹس نے مجوزہ پالیسی میں موجود بعض خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے متعدد سفارشات اور ترامیم پیش کیں تاکہ خواتین اور بچیوں کو ہر قسم کے تشدد، استحصال اور امتیازی سلوک سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے پالیسی فریم ورک کو مزید مئوثر بنایا جا سکے۔ اس موقع پر بتایا گیا کہ محکمہ قانون پہلے ہی وزارت انسانی حقوق کو قومی پالیسی میں شامل کرنے کے لیے تفصیلی تجاویز اور سفارشات ارسال کر چکا ہے۔شرکا نے ادارہ جاتی روابط، قانونی و پالیسی اقدامات، سروس ڈیلیوری نظام، آگاہی مہمات اور خواتین و بچیوں کے تحفظ سے متعلق مئوثر اقدامات پر تفصیلی غور و خوض کیا۔ اجلاس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ خیبرپختونخوا میں خواتین کے حقوق کے فروغ اور تحفظ کے لیے تمام ادارے باہمی تعاون اور مربوط حکمت عملی کے تحت کام جاری رکھیں گے تاکہ خواتین اور بچیوں کے خلاف تشدد کی روک تھام، تحفظ، داد رسی اور مئوثر ردعمل کے نظام کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔








