گرمی کی شدت’ ڈائریاں’ بخار’ اور پانی کی کمی کے کیسز میں نمایاں اضافہ

گرمی کی شدت بڑھتے ہی بچوں اور بڑوں میں پیٹ کے امراض، ڈائریا، بخار، معدے کی خرابی اور پانی کی کمی کے کیسز میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے باعث شہر کے بڑے سرکاری اسپتالوں کی ایمرجنسیوں پر مریضوں کا دباو بڑھ گیا۔ طبی ماہرین نے شہریوں کو غیر معیاری بازاری اشیا سے پرہیز، صاف پانی کے استعمال اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔ذرائع کے مطابق سرکاری اور غیر سرکاری ہسپتالوں کے چلڈرن اور ایمرجنسی وارڈز میں گزشتہ چند روز کے دوران ڈائریا، بخار، قے، پیٹ درد اور ہیٹ سٹروک کے مریضوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ خصوصا کم عمر بچوں اور بزرگ افراد کو شدید گرمی اور آلودہ خوراک زیادہ متاثر کر رہی ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق موسم کی شدت میں اضافے کے باعث کھانے پینے کی اشیا جلد خراب ہو رہی ہیں جبکہ غیر معیاری مشروبات، کٹے ہوئے پھل، برف کے گولے، کھلے مشروبات اور بازاری کھانوں کے استعمال سے معدے اور آنتوں کے امراض پھیل رہے ہیں۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ شہری دھوپ میں غیر ضروری باہر نکلنے سے گریز کریں اور پانی کا زیادہ استعمال کریں تاکہ جسم میں پانی کی کمی نہ ہو۔ طبی ماہرین نے والدین کو ہدایت کی ہے کہ بچوں کو کھلے مشروبات اور غیر معیاری کھانوں سے دور رکھیں، گھر میں تازہ اور صاف ستھرا کھانا استعمال کریں، پانی ابال کر یا فلٹر شدہ پئیں اور ہاتھ دھونے کی عادت اپنائیں۔ ماہرین کے مطابق بخار، مسلسل قے، ڈائریا یا کمزوری کی صورت میں خود علاج کرنے کے بجائے فوری طور پر قریبی اسپتال یا مستند معالج سے رجوع کیا جائے تاکہ کسی پیچیدگی سے بچا جا سکے۔ محکمہ صحت کے حکام نے بھی شہریوں سے اپیل کی ہے کہ شدید گرمی کے دوران احتیاطی تدابیر اختیار کریں، خاص طور پر بچوں، بزرگوں اور بیمار افراد کا خصوصی خیال رکھا جائے تاکہ موسمی بیماریوں سے محفوظ رہا جا سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed