پشاور میوزیم میں خیبرپختونخوا کی جیلوں میں قید افراد کے ہاتھوں سے تیار کردہ اشیا کو بین الاقوامی سطح پر متعارف کرانے اور ان کی حوصلہ افزائی کے لیے اپنی نوعیت کی پہلی سووینئر شاپ کا افتتاح کر دیا گیا۔افتتاحی تقریب کے مہمانِ خصوصی سیکرٹری ثقافت، سیاحت و آثارِ قدیمہ سعادت حسن تھے، جبکہ انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات خیبرپختونخوا ریحان گل خٹک، ڈائریکٹر جنرل آثارِ قدیمہ و عجائب گھر ڈاکٹر عبدالصمد اور رکن قومی اسمبلی فیصل امین گنڈاپور بھی اس موقع پر موجود تھے۔تقریب میں بتایا گیا کہ یہ سووینئر شاپ نہ صرف ایک ثقافتی اقدام ہے بلکہ اس کا بنیادی مقصد اصلاح کے تصور کو فروغ دینا ہے، جس کے تحت قیدیوں کو مثبت سرگرمیوں میں شامل کر کے انہیں معاشرے کا کارآمد فرد بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔شاپ میں قیدیوں کے ہاتھوں سے تیار کردہ اشیا، پینٹنگز اور مختلف مصنوعات رکھی گئی ہیں۔ ان اشیا کی فروخت سے حاصل ہونے والے منافع کا 30 فیصد حصہ قیدیوں کو بطور معاوضہ دیا جائے گا، جو ان کی حوصلہ افزائی اور بحالی میں اہم کردار ادا کرے گا۔منتظمین کے مطابق یہ منصوبہ محکمہ آثارِ قدیمہ و عجائب گھر خیبر پختونخوا اور محکمہ جیل خانہ جات خیبر پختونخوا کے درمیان ایک مثالی اشتراک ہے، جس کا مقصد ثقافتی ورثے کے فروغ کے ساتھ ساتھ اصلاحی نظام کو مضبوط بنانا ہے۔شرکا کا کہنا تھا کہ پشاور میوزیم، جو گندھارا تہذیب کے اہم مراکز میں شمار ہوتا ہے، میں اس سووینئر شاپ کا قیام اس منصوبے کو مزید تاریخی اور ثقافتی اہمیت فراہم کرتا ہے۔ اس اقدام کے ذریعے نہ صرف گندھارا تہذیب کے تاریخی پس منظر کو اجاگر کیا جا رہا ہے بلکہ زائرین کو ایک منفرد اور بامعنی تجربہ بھی فراہم کیا جا رہا ہے۔







