جنگ بندی مذاکرات کے باوجود لبنان پراسرائیلی حملے جاری ہیں، لبنان میں 24 گھنٹوں میں مزید 43 شہری شہید کر دیئے گئے ۔غیرملکی میڈیارپورٹس کے مطابق لبنان میں امدادی کارروائیوں کے دوران اسرائیل نے حملہ کر کے 4 طبی ورکرز کو قتل کر دیا۔ لبنانی وزیرِ صحت نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل نے لبنانی عوام کے خلاف اسرائیلی جنگی جرائم میں یہ نیا اضافہ کیا ہے۔اقوامِ متحدہ کے خصوصی نمائندے کا کہنا ہے کہ اسرائیل جنوبی لبنان میں گھروں کی منظم تباہی کا ارتکاب کر رہا ہے، آبادی کی بے دخلی، بفر زونز کے ذریعے زمین پر قبضہ وہی حکمتِ عملی ہے جو غزہ یا مقبوضہ مغربی کنارے میں اختیار کی گئی۔غیر ملکی خبر رساںادارے کے مطابق اسرائیل نے لبنان کے جنوبی علاقے میں تبنین اسپتال کے قریب بھی فضائی حملہ کیا ہے۔ادھر جنوبی لبنان کے علاقے بنت جبیل میں حزب اللہ اور اسرائیلی افواج کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئی ہیں، اسرائیلی طیاروں اور ہیلی کاپٹروں نے علاقے میں بمباری کی۔لبنانی میڈیا کے مطابق اسرائیلی افواج نے گرینڈ مارکیٹ کے قریب متعدد گھروں کو بھی مسمار کر دیا، قصبہ تبنین پر بھی اسرائیل نے فضائی حملہ کیا جس میں ہسپتال کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔خیال رہے کہ لبنان پر اسرائیل کے 2مارچ سے جاری حملوں میں شہدا کی تعداد 2167 ہو چکی ہے، اسرائیلی کارروائیوں میں اب تک 7ہزار61شہری زخمی ہوچکے ہیں جبکہ لاکھوں افراد بے گھر بھی ہو چکے ہیں۔ دوسری جانب لبنان کے صدارتی دفتر کے ایک عہدیدار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ لبنان کو اسرائیل کے ساتھ کسی متوقع رابطے کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہیں۔یہ بیان صدر ٹرمپ کی سوشل میڈیا پوسٹ کے بعد سامنے آیا ہے جس میں دونوں ممالک کے رہنماں کے درمیان ممکنہ گفتگو کا عندیہ دیا گیا تھا۔






