شعیب جمیل
پشاورہائیکورٹ نے افغان گلوکاروں اور موسیقاروں کو پولیس کی جانب سے ہراساں کرنے اوران کی جبری بے دخلی روکنے کے خلاف دائر رٹ پٹیشن نمٹا دی اور قرار دیا ہے کہ یہ درخواست گزار پہلے ویزے کے لئے وزارت داخلہ سے رجوع کریں جو ایک قانونی تقاضہ ہے اور اگر ویزے کی درخواستیں مسترد ہوتی ہیں تو پھر وہ عدالت سے رجوع کر سکتے ہیں اس لئے اس کو نمٹا دیا جاتا ہے ۔رٹ درخواست پر سماعت پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس وقاراحمد اور جسٹس فرح جمشید پر مشتمل دو رکنی بنچ نے۔ عدالت کے دورکنی بنچ نے بابرخان یوسفزئی ایڈوکیٹ کی وساطت سے دائر افغان گلوکاروں حشمت اللہ امید، الطاف حیرت، لیلی نہال ،دنیا غزل سمیت109سے زائد درخواست گزارو ں کی رٹ پر سماعت کی۔ عدالت میں درخواست گزاروں کے وکیل بابر خان یوسفزئی، نادرا حکام اور وفاق کے لا آفیسر پیش ہوئے۔ رٹ پٹیشنز میں افغان فنکاروں نے موقف اختیار کیا ہے کہ وہ موسیقی اور گلوکاری کے شعبے سے منسلک ہیں تاہم افغانستان میں طالبان کی حکومت آنے کے بعد موسیقی اور اس قسم کی دیگر سرگرمیوں پر مکمل طور پر پابندی عائد کردی گئی جس کے بعد ان کے پاس روزگار کا کوئی دوسرا چارہ نہیں رہا اسلئے انہوں نے پاکستان ہجرت کی کیونکہ افغانستان میں ان کی جانوں کو خطرہ تھا ۔بابر یوسفزئی نے بتایا کہ فنکاروں کو خصوصی طور پر ٹارگٹ کیاجارہا تھا اور پابندی کے علاوہ انہیں سنگین نوعیت کی دھمکیاں مل رہی تھیں۔ان کے وکیل نے بتایاکہ یو این ایچ سی آر ، پاکستان اور افغانستان حکومت کے درمیان 2003میں ہونے والے معاہدے کی رو سے افغان باشندوں نے پاکستان میں پناہ لی جس کے تحت انہیں زبردستی نہیں نکالاجاسکتا تاہم اب وزارت داخلہ کے ایک نوٹیفیکیشن کے مطابق افغان باشندوں کے پی اوآر کارڈز اور افغان سیٹیزن شپ کارڈز زائدالمعیاد ہوچکے ہیں اسلیے انہیں واپس بھیجاجارہاہے ۔ انہوں نے عدالت کو بتایاکہ ان کا مسئلہ عام افغان شہریوں سے مختلف ہے کیونکہ بطور فنکار انہیں خصوصی نوعیت کے خطرات کا سامنا ہے ۔یہ ان افراد کی جانوں اور ان کے خاندان والوں کے تحفظ کا مسئلہ ہے جبکہ پشاورہائیکورٹ میں دائر رٹ درخواستوں کے بعد افغان مہاجرین کو پہلے بھی ریلیف دی جاچکی ہے ۔ انہوں نے یہ بھی بتایاکہ اس وقت مختلف کارروائیوں کے دوران پولیس اور دیگر ادارے انہیں مختلف طریقوں سے ہراساں کررہے ہیں اور ان کے کارڈز بندش کے علاوہ انہیں مختلف رکاوٹوں کا سامنا ہے اور ان کی زندگی اور وقارمحفوظ نہیں ۔ یہ نہ صرف بین الاقوامی قوانین بلکہ آئین پاکستان کی رو سے بھی بنیادی انسانی حقوق کے خلاف ہے ۔عدالت سے رٹ پٹیشن کے فیصلہ ہونے تک ان کی گرفتاری، جبری بے دخلی اور ان کی ہراسانی روکنے کی استدعا کی گئی ہے دلائل مکمل ہونے کے بعدعدالت نے درخواستوں کو نمٹا دیا اور اور درخواست گزاروں کو ہدایت کی کہ وہ پہلے ویزے کے لئے ایپلائی کریں اور اگر ان کی ویزے کے لئے درخواستیں مسترد ہوتی ہیں تو اس کے بعد وہ عدالت سے رجوع کر سکتے ہیں عدالت نے تمام رٹ درخواستیں نمٹا دیںدریں اثنا، ہنری ٹولنہ کے چیئرمین ڈاکٹر راشد خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں موسیقاروں کو سنگین خطرات لاحق ہیں اور وہ اپنی جان کے تحفظ کے باعث وہاں واپس نہیں جا سکتے۔ انہوں نے کہا کہ مجموعی طور پر 109 فنکاروں نے ہائیکورٹ میں درخواستیں دائر کی تھیں اور انہیں امید ہے کہ وزارت داخلہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ان کے مسائل حل کرے گی۔







