
تحریر: اکرام اللہ مروت
ہر سال عالمی یومِ خواتین 8 مارچ کو دنیا بھر میں اس عزم کے ساتھ منایا جاتا ہے کہ خواتین کو مساوی مواقع، بہتر صحت، تعلیم، انصاف اور معاشی خودمختاری فراہم کی جائے۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں اس دن کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے کیونکہ یہاں خواتین آبادی کا تقریباً 52 فیصد حصہ ہیں، مگر ان کی بڑی تعداد ابھی تک سماجی، معاشی اور صحت سے متعلق بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔ اگر ہم حقیقی معنوں میں ترقی کرنا چاہتے ہیں تو خواتین کو بااختیار بنانا ناگزیر ہے۔
عالمی یوم خواتین کے موقع پر UNFPAکے پاکستان کیلئے نمائندے لوئے شبانے کاکہنا ہے کہ
عالمی یومِ خواتین کے موقع پر دنیا بھر خصوصاً پاکستان میں خواتین اور لڑکیوں کی ہمت، قیادت اور خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا جاتا ہے۔ اس سال کا موضوع “حقوق، انصاف اور عمل” تمام خواتین اور لڑکیوں کیلئے” اس بات کی یاد دہانی ہے کہ اگر خواتین کی صحت، تعلیم، حقوق اور مواقع میں سرمایہ کاری کی جائے تو اس سے پورا معاشرہ فائدہ اٹھاتا ہے۔
پاکستان اور دنیا کے کئی خطوں میں خواتین کو اب بھی جنگ، بے گھر ہونے اور عدم تحفظ جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ حتیٰ کہ عام حالات میں بھی بہت سی خواتین کو انصاف، صحت کی سہولیات، تعلیم اور بنیادی حقوق تک رسائی میں رکاوٹوں کا سامنا رہتا ہے۔ زچگی میں پیچیدگیاں، صحت کی سہولیات کی کمی یا ان کی بندش خواتین کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔
پاکستان میں ہر تین میں سے ایک عورت صنفی تشدد کا شکار ہوتی ہے، جبکہ آدھی سے زیادہ متاثرہ خواتین معاشرتی رکاوٹوں کی وجہ سے شکایت درج نہیں کراتیں۔ حقیقی انصاف صرف قوانین بنانے سے نہیں بلکہ ایسے اداروں سے ممکن ہے جو متاثرہ خواتین کی عزت اور تحفظ کو یقینی بنائیں۔
اس کے باوجود پاکستان میں خواتین معاشرے کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ وہ بطور استاد، ہیلتھ ورکر، کاروباری شخصیت، اور کمیونٹی لیڈر مثبت تبدیلی لا رہی ہے
اقوام متحدہ کا ادارہ UNFPA حکومتِ پاکستان اور دیگر اداروں کے ساتھ مل کر اس بات کیلئے کام کر رہا ہے کہ ہر عورت اپنے حقوق استعمال کر سکے، صحت کی سہولیات حاصل کرے اور تشدد سے محفوظ زندگی گزار سکے۔ اس دن کی مناسبت سے اپنے پیغام میں لوئے شبانے کا کہنا تھا کہ اگر خواتین اور لڑکیاں ترقی کریں گی تو پاکستان اور پوری دنیا ترقی کرے گی۔
پاپولیشن کونسل پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں صرف 25 فیصد خواتین معاشی سرگرمیوں میں حصہ لے کر خود کماتی ہیں جبکہ 75 فیصد خواتین دوسروں پر انحصار کرتی ہیں۔ یعنی ملک کی نصف آبادی کی صلاحیتیں پوری طرح استعمال نہیں ہو رہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری معاشی ترقی کی رفتار بھی متاثر ہوتی ہے۔ دوسری طرف ایشیائی ممالک جیسے جنوبی کوریہ، سنگا پور، جنوبی کوریہ، تھائی لینڈ اور ملائیشیا میں خواتین کی روزگار میں شمولیت 50 فیصد سے زیادہ ہے۔ یہی وہ ممالک ہیں جنہوں نے تعلیم، صحت اور خاندانی منصوبہ بندی کو ترجیح دے کر اپنی معیشت کو مضبوط بنایا اور ترقی کی راہ پر گامزن ہوئے۔
خواتین کی صحت بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ UNFPA کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 15 سے 19 سال کی عمر کی ہر ہزار شادی شدہ لڑکیوں میں سے 41 ماں بن جاتی ہیں۔ کم عمری میں شادی اور ماں بننا نہ صرف لڑکیوں کی صحت کیلئے خطرناک ہے بلکہ ان کی تعلیم اور معاشی ترقی کے مواقع بھی محدود کر دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں ہر سال تقریباً 17 ہزار خواتین دورانِ حمل اور زچگی میں پیچیدگیوں کے باعث جان کی بازی ہار جاتی ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ تقریباً ہر 45 سے 48 منٹ میں ایک ماں موت کے منہ میں چلی جاتی ہے۔
صحت کے ساتھ ساتھ تعلیم کا فقدان بھی خواتین کے مسائل میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ملک میں 46.5 فیصد خواتین غیر تعلیم یافتہ ہیں جبکہ لاکھوں بچیاں ابھی تک سکول سے باہر ہیں۔ کم تعلیم کی وجہ سے خواتین نہ صرف معاشی طور پر کمزور رہتی ہیں بلکہ اپنی صحت اور خاندانی فیصلوں میں بھی مؤثر کردار ادا نہیں کر پاتیں۔ اعداد و شمار کے مطابق 10 فیصد خواتین اپنی صحت کے بارے میں خود فیصلہ کرنے کا اختیار بھی نہیں رکھتیں۔
بڑھتی ہوئی آبادی بھی خواتین کے مسائل سے جڑی ہوئی ہے۔ پاکستان کی آبادی تقریباً4۔2 فیصد سالانہ شرح سے بڑھ رہی ہے جو خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ نتیجتاً وسائل پر دباؤ بڑھ رہا ہے اور صحت، تعلیم اور روزگار کے مسائل مزید سنگین ہو رہے ہیں۔ پاپولیشن کونسل پاکستان کے اعداد وشمار کے مطابق اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو 2040 تک پاکستان کو تقریباً 11 کروڑ 70 لاکھ نئی ملازمتوں، ایک کروڑ 90 لاکھ گھروں اور 85 ہزار مزید پرائمری سکولوں کی ضرورت ہوگی۔ یہ سب اس وقت ممکن ہوگا جب خواتین کو بنیادی حقوق، تعلیم، صحت، انصاف اور معاشی مواقع فراہم کئے جائیں۔
خواتین کی معاشی شمولیت کی ایک چھوٹی سی مثال معاشرے میں بڑی تبدیلی لا سکتی ہے۔ کئی گھروں میں خواتین نے گھریلو کاروبار شروع کرکے نہ صرف اپنے خاندان کی مالی مدد کی بلکہ اپنی شناخت بھی قائم کی۔ زاہدہ 3 بچوں کی ماں ہے انکا تعلق پشاور کے علاقے دانش آباد سے ہے جس کا شوہر سرکاری ملازم ہے اور ظاہر ہے ایک نارمل تنخواہ سے پشاور جیسے شہر میں گھر چلانا اگر ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے زاہدہ نے اپنے شوہر کے مشورے سے 5 سال پہلے اپنے گھر میں پاپڑ وغیرہ کی دکان بنا لی کوشش چھوٹی ضرور تھی لیکن اسکے پیچھے زاہدہ کے اندر غربت کے خلاف جنگ کیلئے حوصلہ بلند اور تیاری پوری تھی۔ حالانکہ زاہدہ بالکل بھی پڑھی لکھی نہیں ہے انہوں نے گھر میں چھوٹی سی دکان شروع کی جس کیلئے ابتدائی سرمایہ صرف 1500 روپے تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہی کاروبار بڑھ کر 2 سے 3 سالوں میں چند لاکھ روپے تک پہنچ گیا اور آہستہ آہستہ اس پاپڑ کی دکان کو کپڑے کی دکان میں تبدیل کیا گیا اور اب زاہدہ کے شوہر کے مطابق گھر کے اخراجات کا تقریباً 40 فیصد حصہ اس دکان سے پوراہوتا ہے۔ جس نے نہ صرف گھر کے اخراجات کا بوجھ ان پر کم کیا ہے بلکہ ذہنی دباؤ جو زندگی کا حصہ بن گیا تھا اب تقریباً ختم ہو گیا ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر خواتین کو مواقع اور اعتماد دیا جائے تو وہ نہ صرف اپنے خاندان بلکہ معاشرے کی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔
پاپولیشن کونسل پاکستان کے سینئر ڈائریکٹر پروگرامز ڈاکٹر علی میر کا کہنا ہے کہ خاندانی منصوبہ بندی اور تعلیم کے ذریعے خواتین کو بااختیار بنایا جا سکتا ہے۔ انکے مطابق پاکستان میں مانع حمل طریقوں کے استعمال کی شرح تقریباً 34 فیصد ہے۔ اگر اسے بڑھا کر 52 فیصد تک کر دیا جائے تو ہر سال ایک لاکھ چالیس ہزار نوزائیدہ بچوں اور تقریباً 3800 ماؤں کی زندگیاں بچائی جا سکتی ہیں۔ یہ صرف صحت کا مسئلہ نہیں بلکہ معاشی اور سماجی ترقی کا بھی بنیادی عنصر ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی یومِ خواتین ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ خواتین کو بااختیار بنانا صرف ایک سماجی ضرورت نہیں بلکہ قومی ترقی کیلئے بھی ایک ضروری شرط ہے۔ تعلیم، صحت، روزگار صحت اور فیصلہ سازی میں خواتین کی شرکت بڑھائے بغیر کوئی معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا۔ ہمیں بطور قوم یہ سمجھنا ہوگا کہ خواتین کو مواقع دینا دراصل مستقبل کو مضبوط بنانا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ خواتین کے ساتھ ہم بڑی زیادتی اس وقت کر لیتے ہیں کہ کم عمر یعنی ایسی عمر انکی شادی کر لیتے ہیں جب خود انکی صحت کو نشوونما کی ضرورت ہوتی ہے اور بچے پیدا کرنے کیلئے نہ انکی صحت تیار ہوتی ہے اور نہ بچوں کی تربیت کیلئے انکے پاس میچورٹی کا وہ معیار ہوتا ہے اور یہی مسئلہ آگے جاکر نہ صرف اس بچی کی زندگی بڑے بحرانوں اور مشکلات کا شکار کر دیتی ہیں بلکہ وہ جن بچوں کو جنم دیتی ہیں وہ ذہنی اور جسمانی طور پر لاغر اور کمزور ہوتے ہیں جو بعد میں جاکر نہ صرف اس گھر بلکہ معاشرے اور ملک کیلئے بوجھ کا باعث بن جاتے ہیں۔ اسلئے ہمیں مقدار کی بجائے معیار کو ترجیح دینی چاہئے۔
پاکستان میں آبادی اور خواتین کی صحت کے حوالے سے صورتحال کئی اہم چیلنجز کی نشاندہی کرتی ہے۔دستیاب اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں کل شرحِ بار آوری تقریباً 3.6 ہے جبکہ دنیا کے کئی ممالک میں یہ شرح تقریباً 2.1 کے قریب ہے۔ کم عمری کی شادی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے اور اندازوں کے مطابق 18 فیصد لڑکیوں کی شادی 18 سال کی عمر سے پہلے ہو جاتی ہے۔
خاندانی منصوبہ بندی کے حوالے سے بھی صورتحال زیادہ تسلی بخش نہیں۔ پاکستان میں 15 سے 49 سال کی صرف 32 فیصد خواتین جدید مانع حمل طریقے استعمال کرتی ہیں جبکہ تقریباً 16 فیصد خواتین کو یہ سہولت میسر ہی نہیں ہوتی۔ اس کے نتیجے میں ملک میں ہر سال لاکھوں غیر ارادی حمل کے واقعات سامنے آتے ہیں۔
زچہ و بچہ کی صحت کے حوالے سے بھی کئی تشویشناک حقائق موجود ہیں۔ پاکستان میں ہر سال ہزاروں خواتین دوران حمل یا زچگی کے دوران پیچیدگیوں کی وجہ سے جان کی بازی ہار جاتی ہیں۔ اوسطاً ہر 45 سے 48 منٹ میں ایک ماں کی موت واقع ہوتی ہے۔ اسی طرح ہر 1000 نوزائیدہ بچوں میں سے تقریباً 62 بچے ایک سال کی عمر سے پہلے فوت ہو جاتے ہیں۔
غذائیت کے مسائل بھی نمایاں ہیں۔ پاکستان میں تقریباً 40 فیصد بچوں کا قد عمر کے لحاظ سے کم ہے جبکہ 18 فیصد بچے غذائی قلت کا شکار ہیں اور 29 فیصد بچوں میں خون کی کمی پائی جاتی ہے۔ یہ صورتحال بچوں کی صحت اور مستقبل دونوں پر منفی اثر ڈالتی ہے۔
تعلیم کے میدان میں بھی کئی مشکلات موجود ہیں۔ ملک میں 37 فیصد لڑکیاں اور 27 فیصد لڑکے سکول سے باہر ہیں جبکہ 46.5 فیصد خواتین غیر تعلیم یافتہ ہیں۔ اس کے علاوہ اندازوں کے مطابق تقریباً 10 فیصد خواتین اپنی صحت کے بارے میں خود فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں رکھتیں۔
بڑھتی ہوئی آبادی کے باعث صحت، تعلیم اور روزگار کے شعبوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔
عالمی یوم خواتیں کے موقع پر منیجر کمیونیکیشن پاپولیشن کونسل اکرام الاحد کا کہنا ہے کہ اگر خاندانی منصوبہ بندی اور خواتین کی تعلیم و صحت پر توجہ دی جائے تو نہ صرف ماؤں اور بچوں کی اموات میں کمی لائی جا سکتی ہے بلکہ ملک کی معاشی اور سماجی ترقی کے ساتھ ساتھ ملک کو درپیش مختلف مسائل اور بحرانوں پر باآسانی قابو پایا جا سکتا ہے۔ جو وقت کا اہم تقاضا ہے۔
اگر ہم نے آج خواتین کے حقوق انکی تعلیم، صحت، اور معاشی خودمختاری پر سرمایہ کاری کی تو کل یہی خواتین ایک صحت مند، تعلیم یافتہ اور خوشحال معاشرے کی بنیاد رکھیں گی۔ ورنہ بڑھتی ہوئی آبادی، محدود وسائل اور کمزور معیشت کے مسائل مزید پیچیدہ ہوتے جائیں گے۔
شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کا یہ شعر آج بھی ہمیں یہی سبق دیتا ہے۔ کہ
“خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا۔”







