خیبر پختونخوا میں موسم بہار شجرکاری مہم 2026 کا باقاعدہ آغاز ایک خوش آئند اور بروقت اقدام ہے۔ صوبے کو ماحولیاتی تبدیلی درجہ حرارت میں اضافے جنگلات کی کٹائی اور آلودگی جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔ ایسے میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کی جانب سے شجرکاری مہم کا افتتاح اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ صوبائی حکومت ماحول کے تحفظ کو اپنی ترجیحات میں سرفہرست رکھے ہوئے ہے۔رواں مہم کے دوران مجموعی طور پر دو کروڑ سے زائد پودے لگانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے جو بظاہر ایک بڑا اور حوصلہ افزا عدد ہے۔ بریفنگ کے مطابق اپ اسکیلنگ گرین پاکستان پروگرام کے تحت 18.3 ملین جبکہ بلین ٹری ایفارسٹیشن سپورٹ پروگرام کے تحت 2.48 ملین پودے لگائے جائیں گے۔ یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ حکومت نہ صرف شجرکاری کو فروغ دینا چاہتی ہے بلکہ اسے ایک منظم اور پروگرام کے تحت آگے بڑھایا جا رہا ہے۔خصوصی طور پر 23 مارچ کو منعقد ہونے والے میگا شجرکاری ایونٹ میں ایک ہی دن دس لاکھ سے زائد پودے لگانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اگر یہ ہدف عوامی شرکت کے ساتھ حاصل کر لیا جاتا ہے تو یہ ایک مثبت پیغام ہوگا کہ خیبر پختونخوا کے عوام ماحولیاتی تحفظ کے معاملے میں سنجیدہ ہیں۔ نوجوانوں طلبہ اور عام شہریوں کی شمولیت اس مہم کو محض سرکاری سرگرمی کے بجائے عوامی تحریک بنا سکتی ہے۔وزیر اعلیٰ نے وزیر اعلیٰ ہا ئوس کے سبزہ زار میں پودا لگا کر مہم کا افتتاح کیا اور اس موقع پر جنگلات کے فروغ اور تحفظ کو حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل قرار دیا۔ ان کا یہ بیان کہ ماحولیاتی بہتری اور جنگلات کے رقبے میں اضافے کے لیے جامع حکمت عملی کے تحت موثر اقدامات جاری ہیں اس امر کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ حکومت تسلسل کے ساتھ پالیسی اقدامات پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ موثر پالیسیوں کے باعث صوبے میں جنگلات کے رقبے میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔تاہم یہاں ایک اہم سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا صرف پودے لگانا ہی کافی ہے؟ ماضی میں بھی شجرکاری مہمات کے دوران لاکھوں پودے لگانے کے دعوے کیے گئے مگر ان کی دیکھ بھال اور بقاء کی شرح پر کم توجہ دی گئی۔ شجرکاری کی کامیابی کا اصل پیمانہ یہ ہے کہ لگائے گئے پودے کتنے عرصے تک زندہ رہتے ہیں اور جنگل کی شکل اختیار کرتے ہیں۔ اس کے لیے مقامی کمیونٹی کی شمولیت موثر نگرانی اور بعد از شجرکاری نگہداشت کا مضبوط نظام ناگزیر ہے۔خیبر پختونخوا کا جغرافیہ اور موسمی حالات اسے جنگلات کے لیے موزوں بناتے ہیں مگر بے ہنگم شہری پھیلائو غیر قانونی کٹائی اور ایندھن کی ضرورت نے جنگلات پر دبائو بڑھایا ہے۔ بڑھتے ہوئے ماحولیاتی چیلنجز جن میں گلوبل وارمنگ، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ شامل ہیں اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ شجرکاری کو وقتی مہم کے بجائے مستقل قومی مزاج بنایا جائے۔ وزیر اعلیٰ کا یہ بیان کہ شجرکاری کو مستقل عادت بنانا ہوگا ایک حقیقت پسندانہ موقف ہے۔اس کے ساتھ ساتھ شفافیت بھی نہایت اہم ہے۔ پودوں کی خریداری تقسیم، شجرکاری کے مقامات اور بقائو کی شرح کے حوالے سے معلومات عوام کے سامنے لائی جانی چاہئیں۔ اگر ڈیجیٹل مانیٹرنگ سسٹم متعارف کرایا جائے تو ہر شہری یہ دیکھ سکے گا کہ اس کے علاقے میں کتنے پودے لگائے گئے اور ان کی موجودہ حالت کیا ہے۔ اس طرح اعتماد میں اضافہ ہوگا اور عوامی شرکت مزید مضبوط ہوگی۔ اس لئے یہ کہنا بجا ہوگا کہ شجرکاری صرف درخت لگانے کا نام نہیں بلکہ یہ مستقبل کی نسلوں کے لیے محفوظ ماحول کی ضمانت ہے۔ حکومت اپنی پالیسیوں اور اہداف کے ذریعے سمت متعین کر سکتی ہے مگر مطلوبہ نتائج کے لیے عوامی تعاون ناگزیر ہے۔ اگر معاشرے کے تمام طبقات بڑھ چڑھ کر حصہ لیں تو موسم بہار شجرکاری مہم 2026 واقعی ماحولیاتی استحکام کی جانب ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔md.daud78@gmail.com







