جامعہ پشاور مالی بحران کے باعث شدید مشکلات کا شکار ہو گئی ہے، جہاں تنخواہوں، پنشن اور دیگر واجبات کی بروقت ادائیگی ممکن نہیں رہی۔ صورتحال کے پیش نظر تدریسی عملے، افسران اور ملازمین میں شدید بے چینی پائی جا رہی ہے۔پشاور یونیورسٹی ٹیچرز ایسوسی ایشن (پیوٹا) نے وزیر اعلی خیبر پختونخوا کو خط لکھ کر فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔ خط میں صوبائی حکومت سے جامعہ پشاور کے لیے ڈیڑھ ارب روپے کے بیل آٹ پیکیج کی درخواست کی گئی ہے تاکہ ادارہ مالی بحران سے نکل سکے۔ خط کے مطابق جامعہ پشاور مالی بحران کے باعث تعلیمی ماحول بری طرح متاثر ہو چکا ہے۔پیوٹا کے خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ فنڈز کی کمی کے باعث تحقیقی سرگرمیاں معطل ہو رہی ہیں اور کئی ریسرچ منصوبے بند ہونے لگے ہیں۔ اس کے علاوہ مالی وسائل کی عدم دستیابی سے جامعہ کے انتظامی اور تدریسی امور بھی متاثر ہو رہے ہیں، جس سے تعلیمی معیار پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔اساتذہ تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ اگر بروقت حکومتی مداخلت نہ کی گئی تو جامعہ پشاور کی ادارہ جاتی ساکھ کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ مالی بحران پر فوری توجہ دیتے ہوئے مستقل اور دیرپا حل نکالا جائے تاکہ اعلی تعلیم کا یہ اہم ادارہ اپنے تعلیمی اور تحقیقی کردار کو برقرار رکھ سکے۔







