ڈپٹی کمشنر جنوبی جاوید نبی کھوسو نے کہا ہے کہ گل پلازہ کی آگ صرف شارٹ سرکٹ کہہ کر نہیں چھوڑ سکتے، مکمل تحقیقات ہوں گی، تقریبا 80 افراد جاں بحق ہوئے، 86 افراد لاپتہ ہیں۔جاوید نبی کھوسو نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ متاثرہ عمارت میں ریسکیو اہلکاروں کو بھیج رہے ہیں ، مشینری کو اس لئے روک رہے کہ ریسکیو ورکرز کو اندر جانا ہے، عمارت کی حالت بہت خراب ہے کسی بھی وقت گرسکتی ہے، عمارت کا 40 فیصد حصہ گرا ہوا ہے اس کو چھوڑ کر باقی کو سرچ کرلیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ عوام سوشل میڈیا کی خبروں پر بھروسہ نہیں کریں، جیسے جیسے تحقیقات آگے بڑھے گی آگاہ کیا جائے گا، اتنی بڑی آگ ہے، صرف شارٹ سرکٹ کا کہہ کر نہیں چھوڑ سکتے مکمل تحقیقات ہوں گی۔ڈپٹی کمشنر جنوبی نے کہا کہ کونسے دروازے بند تھے کونسے کھلے تھے، اس کی بھی تحقیقات کی جارہی ہے، جس کی بھی غفلت سامنے آئی، اس کے خلاف کارروائی ہوگی، تمام پہلوئوں سے تفتیش جاری ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ اب تک تقریبا 80 انسانی جانیں ضائع ہوئی ہیں، لاپتہ افراد کی فہرست میں 86 افراد کے ناموں کا اندراج کرایا گیا ہے، اب پلازے کا وہ حصہ رہ گیا جو دونوں طرف سے گرا ہوا ہے، دروازوں کے بارے میں کل گواہان سے بیانات لے لیے ہیں۔انہوں نے کہا کہ 14 افراد کی شناخت ہوچکی ہے۔جس میں ڈی این اے سے 8 افراد کی شناخت ہوئی ہے، 48 افراد کا پوسٹ مارٹم ہوچکا ہے، 86 افراد افراد لاپتہ ہیں، ملبہ کے نیچے ممکنہ لاشوں کو نکالنے کے لئے آپریشن جاری ہے، جن عمارتوں میں فائر کے انتظامات نہیں ہیں ان کو نوٹس جاری کررہے ہیں، چھ عمارتوں کو نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔ڈی سی سائوتھ جاوید نبی کھوسو نے کہا کہ بتایا کہ گل پلازہ میں ریسکیو 1122 کو فائنل سرچ کا حکم دے دیا گیا، فائنل سرچ کے بعد گل پلازہ کی عمارت مسمار کر دیا جائے گا۔جاوید نبی کھوسو نے بتایا کہ عمارت کومسمار کرنے کی ذمہ داری ایس بی سی اے کی ہوگی، ایس بی سی اے کی رپورٹ میں عمارت کو خطرناک اور ناقابل استعمال قرار دیا تھا۔دوسری جانب صدرگل پلازہ تاجر ایسوسی ایشن تنویر پاستا کا کہنا ہے کہ مارکیٹ کے راستے بند نہیں تھے، ایمرجنسی ریمپ بھی کھلا تھا، مسجد سے باہر جانے کے دو راستے بھی کھلے ہوئے تھے، بجلی بند نہ کرتے تو جو لوگ باہر نکلے وہ بھی نہیں نکل سکتے تھے۔ تنویر پاستا نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ گل پلازہ آتشزدگی کے وقت عمارت کے تمام دروازے کھلے ہوئے تھے ۔میڈیا پر یہ تاثر غلط ہے کہ واقعہ کے وقت دروازے بند تھے۔دروازے کھلے ہونے کے سبب سیکنڑوں افراد آگ لگنے کے دوران عمارت سے باحفاظت نکلنے میں کامیاب ہوئے، ان کا کہنا تھا کہ جس وقت عمارت میں آگ لگی اس وقت چار ہزار سے زائد افراد مارکیٹ میں ہوں گے۔ان میں بڑی تعداد باہر نکلنے میں کامیاب رہی جبکہ کئی افراد پھنس گئے تھے







