نشے سے پاک پشاور مہم کو پورے خیبر پختونخوا تک توسیع دینے کا فیصلہ

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈا پور کی ہدایات پرنشے سے پاک پشاور مہم کو پورے خیبر پختونخوا اور بعد ازاں پورے پاکستان تک توسیع دینے کا فیصلہ، منشیات کے عادی افراد کی بحالی کے لیے خدمات سر انجام دینے والی عالمی غیر سرکاری تنظیم یونائیٹڈ نیشن آفیسرز ان ڈرگ اینڈ کرائم (UNODC ) سے رابطہ، پشاور میں 4 ایکڑ پر محیط 600 بستروں پر مشتمل ماڈل ہسپتال (بحالی مرکز )کے قیام کے لیے ینگ سائکاٹرسٹ ایسوسی ایشن نے اپنی خدمات پیش کردی 10 ستمبر کو وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کو سفارشات پیش کی جائیں گی اس حوالے سے کمشنر پشاور ڈویژن ریاض خان محسود اور منسٹر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن خلیق الرحمان کی زیر صدارت اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل پشاور بابر تنولی، ایس ایس پی کوارڈینیشن محمد خالد، ڈپٹی ڈائریکٹر سوشل ویلفئیر نور محمد، اسسٹنٹ کمشنر پشاور شعوانہ حلیم بحالی مراکز کے منتظمین جبکہ ینگ سائکاٹرسٹ ایسوسی ایشن مینیجر ڈائریکٹر شہزاد عباس نے اپنی ٹیم کے ہمراہ شرکت کی اجلاس میں شرکاء کو دنیا کے سب سے بڑے بحالی پروگرام نشے سے پاک پشاور مہم کے چاروں ادوار، صحت یاب ہونے والے افراد اور مہم کی کامیابی کے حوالے سے آگاہی دی گئی اجلاس میں ینگ سائکاٹرسٹ ایسوسی ایشن کی جانب سے مہم کو پورے خیبر پختونخوا اور بعد ازاں پورے پاکستان تک توسیع دینے، ماڈل ہسپتال (بحالی مرکز) کے قیام اور نشے کے عادی افراد کے علاج کے لیے فنڈز کی فراہمی کے لیے غیر سرکاری تنظیم (UNODC) سے رابطے بارے آگاہی دی گئی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کی سربراہی میں 10 ستمبر کو وزیر اعلیٰ ہاؤس میں اجلاس منعقد کیا جائے گا جس میں غیر سرکاری تنظیم (UNODC) کو بھی مدعو کیا جائے گا اور سفارشات وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کو پیش کی جائے گی کمشنر پشاور ڈویژن ریاض خان محسود نے ہسپتال بحالی مرکز کے قیام کے لیے 4 ایکڑ پر محیط موزوں زمین کے انتخاب کے لیے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل کو ہدایات جاری کرتے ہوئے رپورٹ طلب کرلی کمشنر پشاور ڈویژن ریاض خان محسود نے نشے سے پاک پشاور مہم کو پورے خیبر پختونخوا اور پورے پاکستان تک توسیع دینے فنڈز کی فراہمی کے لیے بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیم سے رابطے اور ماڈل ہسپتال کے قیام کے لیے ینگ سائکاٹرسٹ ایسوسی ایشن کو خراج تحسین پیش کی اور کہا کہ نشے کے عادی افراد کے علاج کے لیے صوبائی حکومت خطیر رقم خرچ کر رہی ہے غیر سرکاری تنظیم کی جانب سے فنڈز کی فراہمی سے صوبائی حکومت پر بوجھ کم ہو جائے گا اور خیبرپختونخوا کو نشے کی لعنت سے پاک کرنے کا خواب شرمندہ تعبیر ہوگا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed