شعیب جمیل
قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں اقلیتی برادری کے لیے مخصوص نشستوں کا کوٹہ چیلنج کردیا گیا اور اقلیتی برادری کی مخصوص نشستوں کی ترمیم کے خلاف پشاور ہائیکورٹ میں رٹ دائر کردیا گیا ہے ۔ رٹ اقلیتی برادری رمیض اور انیل مسیح نے ایڈووکیٹ نعمان محب کاکا خیل کہ توسط سے دائر کیا ہے جس میں وفاقی حکومت اور وزرات قانون و انصاف کو فریق بنایا گیا ہے ۔ رٹ میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ 2010 اٹھارویں آئینی ترمیم میں اقلیتوں کے لیے مخصوص نشستوں کا کوٹہ مقرر کیا گیا اٹھارویں ترمیم کے بعد آئین کے ارٹیکلز 51 اور 106 میں اقلیتوں کے مخصوص نشستو کے کوٹے کے لیے ترمیم کی گئی۔ ترمیم کے بعد اقلیتی برادری مخصوص نشستوں پر براہ راست الیکشن نہیں کر سکتی اور ترمیم کے بعد اقلیتی برادری کے لیے سیاسی جماعتیں نمائندے سلیکٹ کرتے ہیں ۔ رٹ میں مزید موقف اختیار کیا گیا ہے کہ یہ ترمیم غیر جمہوری اور بنیادی حقوق کے خلاف ہے اور اس کے ذریعے اقلیتی برادری کو اپنے نمائندے براہ راست منتخب کرنے سے محروم رکھا گیا ہے جبکہ اقلیتی برادری اپنے نمائندے منتخب کرنے کا آئینی اور قانونی حق رکھتے ہیں مخصوص نشستوں پر سلیکشن کی بجائے الیکشن کروائے جائے ۔ رٹ میں اسدعا کی گئی ہے کہ عدالت آرٹیکلز 51 اور 106 میں ترمیم کو کالعدم قرار دیں اور اقلیتی برادری کو براہ راست اپنے نمائندے منتخب کرنے کا حق دیں ۔







