حج 2023 کا آغاز ہو چکا ہے۔ اندرون اور بیرون مملکت سے لاکھوں مسلمان قافلوں کی صورت میں منٰی کی عارضی خیمہ بستی میں پہنچنا شروع ہو گئے ہیں۔
منٰی وادی کی یہ خیمہ بستی دنیا کی وہ واحد بستی ہے جو سال کے 365 دنوں میں صرف سات دنوں کے لیے بسائی جاتی ہے۔
سعودی حکومت کی جانب سے جاری ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق اس برس مختلف ممالک سے 17 لاکھ کے قریب عازمین حج فریضہ کی ادائیگی کے لیے مملکت پہنچے ہیں۔
مکہ کے تمام داخلی راستوں پر حج سکیورٹی فورس کی سربراہی میں چیک پوسٹیں قائم کی گئی ہیں جہاں محکمہ امن عامہ اور ادارہ امیگریشن کے اہلکار متعین ہیں۔ منٰی روانگی سے قبل حجاج کرام مکہ میں ضروری اشیا کی خریداری میں مصروف رہے۔مکہ سے حجاج کے قافلے 7 ذوالحجہ کی نصف شب کے بعد وادی منٰی کے لیے روانہ ہونا شروع ہوئے۔ وادی منٰی میں حجاج کی آمد کا سلسلہ طلوع سحر تک جاری رہا۔مکہ میں رہ جانے والے حجاج 8 ذوالحجہ کی دوپہر تک منٰی کی عارضی خیمہ بستی میں پہنچ جائیں گے جہاں وہ سارا دن گزارنے کے بعد نو ذوالحجہ کی نماز فجر ادا کرتے ہی حج کے رکن اعظم ’وقوف عرفہ‘ کے لیے روانہ ہو جائیں گے۔