پاکستان آٹوموٹیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پاما) نے ملک میں استعمال شدہ گاڑیوں کی بے تحاشا درآمد سے پیدا ہونے والے بحران پر حکومت سے گفٹ اسکیم کے غلط استعمال کی روک تھام کا مطالبہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں ڈی جی پاما رضی الرحمٰن نے مشیرِ وزیراعظم ہارون اختر خان کو ایک اہم خط ارسال کیا ہے جس میں مقامی آٹو انڈسٹری کو درپیش مسائل کی نشاندہی کی گئی ہے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ استعمال شدہ گاڑیوں کی تجارتی سطح پر آمد سے مقامي گاڑیوں کی صنعت شدید متاثر ہو رہی ہے۔ پاما کے مطابق گفٹ اسکیم کے تحت گاڑیوں کی درآمد میں ستمبر کے دوران زبردست اضافہ دیکھا گیا اور ستمبر 2026 میں یہ تعداد 2,238 تک پہنچ گئی، جو استعمال شدہ گاڑیوں کی کل درآمد کا 98 فیصد بنتی ہے۔
ایسوسی ایشن نے واضح کیا کہ مقامی آٹو انڈسٹری میں 1,000 ارب روپے سے زائد کی خطیر سرمایہ کاری کی جا چکی ہے اور اس وقت ملک بھر میں 13 مختلف پلانٹس کے ذریعے 31 برانڈز اور 100 سے زیادہ ماڈلز مقامی سطح پر تیار کیے جا رہے ہیں۔ پاما نے خط کے ذریعے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ گاڑیوں کی سرٹیفکیشن اور مانیٹرنگ کے موجودہ نظام کا جامع جائزہ لے کر ضروری اصلاحات کی جائیں۔







