ایڈیشنل سیشن پشاور جج رفیع اللہ نے مستورات کے تنازع پر فائرنگ کر کے شہری کو قتل کرنے کے کیس میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے گرفتار ملزم کو جرم ثابت ہونے پر عمر قید اور 5 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنا دی ہے۔ عدالت نے کیس کے تمام گواہوں کے بیانات، پولیس شواہد اور دلائل مکمل ہونے کے بعد ملزم محمد زبیر کو قصوروار ٹھہراتے ہوئے یہ حکم جاری کیا۔استغاثہ کے مطابق ملزم محمد زبیر نے اپنے بھائی نعمان کے ساتھ مل کر تھانہ تہکال کی حدود میں مستورات تنازع کی بنا پر انعام اللہ نامی شخص پر اندھا دھند فائرنگ کی تھی، جس کے نتیجے میں انعام اللہ شدید زخمی ہو گیا اور بعد میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔ تہکال پولیس نے مقدمہ درج کر کے ملزم زبیر کو حراست میں لیا اور تفتیش مکمل ہونے کے بعد چالان عدالت میں پیش کیا، جس پر باقاعدہ ٹرائل کا آغاز کیا گیا تھا۔عدالت عالیہ نے ٹرائل کے تمام مراحل مکمل ہونے پر مرکزی ملزم محمد زبیر کو عمر قید اور جرمانے کی سزا سنائی، جبکہ کیس کے دوسرے نامزد معاون ملزم نعمان کے مسلسل روپوش رہنے پر عدالت نے اسے اشتہاری مجرم قرار دیتے ہوئے اس کے دائمی وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی ہدایت کی۔







