پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن خیبرپختونخوا کے چیئرمین محمد نعیم بٹ نے محکمہ خوراک کی جانب سے پشاور اور مردان ڈویژن سمیت صوبہ بھر کی فلور ملز کو اضاخیل نیشنل ریزرو گودام سے گندم کی فراہمی کے فیصلے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے گندم اٹھانے سے واضح طور پر انکار کر دیا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر اس سنگین معاملے کا نوٹس لیا جائے اور گندم کے معیار کی غیر جانبدارانہ جانچ یقینی بنائی جائے۔محمد نعیم بٹ نے اپنے ایک بیان میں واضح کیا کہ اضاخیل گودام میں طویل عرصے سے پڑی گندم مضرِ صحت، گل سڑ چکی ہے اور اس میں پھپھوندی، بدبو اور آلودگی کے واضح آثار موجود ہیں، جو انسانی استعمال کے لیے قطعی طور پر محفوظ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ فلور ملز انڈسٹری عوام کو معیاری اور محفوظ آٹے کی فراہمی کے لیے پرعزم ہے اور عوامی صحت کے معاملے پر کسی قسم کا خطرہ یا سمجھوتہ ہرگز مول نہیں لیا جا سکتا۔ ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا ہے کہ جب تک مستند لیبارٹریز سے گندم کے نمونوں کا ٹیسٹ کر کے اس کے معیار کی تسلی بخش تصدیق نہیں کی جاتی، اس وقت تک یہ گندم نہیں اٹھائی جائے گی، جبکہ خراب گندم کو الگ کر کے جانوروں کی خوراک کے لیے فروخت کیا جائے۔فلور ملز ایسوسی ایشن کے مطالبات میں یہ بھی شامل ہے کہ سرکاری گندم کی خریداری، ذخیرہ اندوزی اور ترسیل کے نظام کو شفاف بنایا جائے اور محکمہ خوراک فوری طور پر فلور ملز مالکان کے جائز تحفظات کو دور کرنے کے لیے ہنگامی مشاورت کا آغاز کرے تاکہ صوبے میں آٹے کے معیار اور عوام کے اعتماد کو برقرار رکھا جا سکے۔







