سالانہ عالمی اجتماعِ پنج پیر توحید و سنت کا عہد، قرآن کا پیغام اور انقلابِ فکر کی تجدید

تحریر: مولانا مجاہد خان ترنگزئی

اکتوبر کی آمد اہلِ توحید و سنت کے دلوں میں ایک نئی تڑپ، ایک تازہ ولولہ اور روحانیت سے لبریز ایک خوش گوار احساس بیدار کر دیتی ہے۔ یہ وہ مہینہ ہے جس میں مرکز دارالقرآن پنج پیر کی فضائیں قرآن و سنت کی صداں سے گونج اٹھتی ہیں، وادیوں میں توحید کا پیغام پھیلتا ہے اور ملک کے طول و عرض سے فرزندانِ اسلام ایک عظیم مقصد کی خاطر اس تاریخی مرکز کا رخ کرتے ہیں۔ جماعت اشاعت التوحید والسن العالمیہ کے زیرِ اہتمام منعقد ہونے والا سالانہ عالمی اجتماعِ پنج پیر محض ایک مذہبی اجتماع نہیں، بلکہ تجدیدِ ایمان، اصلاحِ احوال، تربیتِ کردار اور احیائے فکر کا ایک عظیم الشان مظہر ہے۔اس اجتماع کی روح، اس کی فکری بنیاد اور اس کی دعوتی اساس شیخ العرب والعجم، شیخ القرآن حضرت مولانا محمد طاہر پنج پیری کی وہ قرآنی فکر ہے جس نے توحید و سنت کی دعوت کو نئی قوت، نئی جہت اور انقلابی آہنگ عطا کیا۔ آپ نے قرآن و سنت کی تعلیمات کو اپنی دعوت کا محور بنایا اور اپنی علمی و فکری جدوجہد سے ایک ایسی تحریک کی بنیاد استوار کی جس کے اثرات آج بھی اہلِ علم، طلبہ، کارکنان اور عوام کے دلوں میں محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ اجتماعِ پنج پیر اسی قرآنی مشن کی یاد تازہ کرنے، اس کے پیغام کو عام کرنے اور نئی نسلوں کو اس کے مقاصد سے روشناس کرانے کا ایک مثر ذریعہ ہے۔ان شا اللہ، بروز جمعرات، 22 اکتوبر 2026 کو اجتماع کا باقاعدہ آغاز امیرِ محترم شیخ القرآن حضرت مولانا محمد طیب طاہری حفظہ اللہ کے صدارتی خطاب سے ہوگا۔ اس کے بعد ملک کے مختلف علاقوں سے تشریف لانے والے جید علما کرام، مشائخ عظام، مفسرین، محدثین اور خطبا اپنے علمی و اصلاحی خطابات پیش کریں گے۔ اجتماع بروز اتوار، 25 اکتوبر 2026، دوپہر 12 بجے شیخ القرآن حضرت مولانا محمد طیب طاہری حفظہ اللہ کے اختتامی خطاب اور دعا کے ساتھ اختتام پذیر ہوگا۔ہر سال ہزاروں اور لاکھوں کی تعداد میں عقیدت مندوں، علما، طلبہ اور کارکنان کی آمد اس حقیقت کی غماز ہے کہ خلوص سے اٹھنے والی دعوت، جب قرآن و سنت کی بنیاد پر استوار ہو، تو وقت گزرنے کے ساتھ اس کے اثرات ماند نہیں پڑتے، بلکہ نئی نسلوں کے دلوں میں مزید گہرے ہوتے چلے جاتے ہیں۔ پنج پیر کا یہ میدان اسی ایمانی وابستگی، دینی حمیت اور دعوتی استقامت کی ایک روشن تصویر پیش کرتا ہے۔سالانہ عالمی اجتماعِ پنج پیر کا بنیادی مقصد دعوتِ توحید و سنت کو عام کرنا، قرآن و سنت کی تعلیمات کو زندگی کے تمام شعبوں میں اجاگر کرنا اور امتِ مسلمہ کو دینی شعور، فکری پختگی اور عملی استقامت سے آراستہ کرنا ہے۔ یہ اجتماع محض خطابات سننے اور جذبات کے اظہار کا نام نہیں، بلکہ اپنے عقائد کی اصلاح، اپنے کردار کا محاسبہ، اپنی زندگیوں کو اسلامی تعلیمات کے تابع کرنے اور دین کی سربلندی کے لیے نئے عزم کے ساتھ میدانِ عمل میں اترنے کا پیغام دیتا ہے۔یہاں عوام کی اصلاح کے ساتھ کارکنان کی فکری تربیت، ذمہ داران کی تنظیمی رہنمائی اور دعوتی جدوجہد کے آئندہ مراحل پر غور و فکر کیا جاتا ہے۔ اس اجتماع کا ایک اہم پہلو امیرِ محترم کے ساتھ جماعتی وابستگی، نظم و ضبط اور باہمی اعتماد کو مضبوط بنانا بھی ہے، تاکہ دعوت کا یہ قافلہ اخلاص، اتحاد اور استقامت کے ساتھ اپنی منزل کی جانب بڑھتا رہے۔جماعت اشاعت التوحید والسن العالمیہ کی دعوت کا مرکزی نکتہ اللہ تعالی کی وحدانیت کا اقرار، رسول اللہ ۖ کی سنت سے وابستگی اور اسلامی تعلیمات کے مطابق انفرادی و اجتماعی زندگی کی اصلاح ہے۔ اس تحریک کی اصل قوت اس کا قرآنی پیغام، اس کی دعوتی جدوجہد اور اپنے دینی مقاصد کے ساتھ وابستگی ہے۔قرآن و سنت کی روشنی میں عقائد کی درستگی، عبادات کی اصلاح، اخلاق کی پاکیزگی اور معاشرے میں دینی اقدار کا فروغ اس دعوت کے بنیادی تقاضے ہیں۔ یہی وہ پیغام ہے جو اجتماعِ پنج پیر کے منبر سے بلند ہوتا ہے اور شرکا کو یاد دلاتا ہے کہ دین سے حقیقی وابستگی محض دعوے سے نہیں، بلکہ عقیدے کی پختگی، عمل کی درستگی، اخلاق کی بلندی اور سنتِ نبوی ۖ کی پیروی سے عبارت ہے۔اتنے بڑے اجتماع کا کامیاب انعقاد محض اتفاق کا نتیجہ نہیں، بلکہ مسلسل محنت، منظم منصوبہ بندی، باہمی تعاون اور ذمہ داری کے احساس کا ثمر ہے۔ اجتماع سے کئی ہفتے قبل تیاریاں شروع ہو جاتی ہیں۔ مرکزی اور صوبائی سطح پر مشاورت کا سلسلہ جاری رہتا ہے، مختلف کمیٹیاں تشکیل دی جاتی ہیں، ذمہ داریاں تقسیم ہوتی ہیں اور ہر کارکن اپنی استعداد کے مطابق اس عظیم دینی خدمت میں حصہ ڈالتا ہے۔دعوتی مہم، تشہیری سرگرمیاں، سوشل میڈیا پر پیغام رسانی، بینرز، اشتہارات اور دیگر انتظامی امور ایک مربوط حکمتِ عملی کے تحت انجام دیے جاتے ہیں۔ ان تمام سرگرمیوں کے پیچھے وہ جذب خدمت کارفرما ہوتا ہے جو کسی ذاتی مفاد کا محتاج نہیں، بلکہ دینی مقصد سے وابستگی اور اجتماعی ذمہ داری کے احساس سے قوت حاصل کرتا ہے۔اجتماعِ پنج پیر کی ایک نمایاں خصوصیت اس کا نظم و ضبط، پرامن ماحول اور رضاکارانہ خدمت کا جذبہ ہے۔ اس اجتماع کی روایت یہ پیغام دیتی ہے کہ جب کسی دینی اجتماع کے شرکا نظم، ذمہ داری اور باہمی احترام کو اپنا شعار بنا لیں تو بڑی سے بڑی سرگرمی بھی حسنِ انتظام کے ساتھ انجام دی جا سکتی ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed