آسٹریلوی اوپنر نک میڈنسن نے جنوبی افریقا کے خلاف ڈربن ٹیسٹ میں 33 گیندیں کھیلنے کے باوجود کوئی رن نہ بنا کر ٹیسٹ کرکٹ میں ایک ناپسندیدہ ریکارڈ اپنے نام کر لیا۔
جمعے کو شروع ہونے والی سیریز کے پہلے ٹیسٹ میں جنوبی افریقا کے فاسٹ بولر مارکو یانسن نے نک میڈنسن کو بولڈ کیا۔ وہ 33 گیندوں کا سامنا کرنے کے بعد بھی اپنا کھاتہ نہ کھول سکے۔
کرکٹ رپورٹس کے مطابق دستیاب گیندوں کے ریکارڈ کی بنیاد پر میڈنسن ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں سب سے زیادہ گیندیں کھیل کر صفر پر آؤٹ ہونے والے آسٹریلوی اوپنر بن گئے۔ ان کی یہ اننگز 21ویں صدی میں کسی ٹیسٹ اوپنر کی جانب سے کھیلی گئی طویل ترین ڈک بھی قرار دی گئی ہے۔
34 سالہ نک میڈنسن تقریباً 10 سال بعد ٹیسٹ کرکٹ میں واپس آئے تھے۔ انہوں نے آخری مرتبہ دسمبر 2016 میں پاکستان کے خلاف ٹیسٹ میچ کھیلا تھا، جبکہ اسی سال جنوبی افریقا کے خلاف اپنے ٹیسٹ کیریئر کا آغاز کیا تھا۔
میڈنسن کی ٹیسٹ ٹیم میں واپسی ان کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ وہ 2025 میں کینسر میں مبتلا ہوگئے تھے اور انہیں کیموتھراپی کے مرحلے سے گزرنا پڑا تھا۔
صحت یاب ہونے کے بعد انہوں نے دوبارہ قومی ٹیم میں جگہ بنانے کے لیے محنت کی، جس کے نتیجے میں انہیں جنوبی افریقا کے دورے کے لیے آسٹریلوی اسکواڈ میں شامل کیا گیا۔
تاہم، طویل وقفے کے بعد ٹیسٹ کرکٹ میں واپسی پر ان کی پہلی اننگز مایوس کن رہی اور وہ بغیر کوئی رن بنائے پویلین لوٹ گئے۔



