آئیچی ناگویا جاپان میں 20 ویں نیشنل گیمز کا باقاعدہ آغاز ہوگیا

امجد عزیز ملک (ناگویا، جاپان)

جاپان کے شہر آئیچی ناگویا میں 20ویں ایشین گیمز کا شاندار افتتاح ہوگیا، جس کے ساتھ ہی 16 روزہ کثیر کھیلوں کے مقابلوں کا باقاعدہ آغاز ہوگیا۔ افتتاحی تقریب ہفتہ 19 ستمبر کو میزوہو پارک ایتھلیٹک اسٹیڈیم ناگویا میں منعقد ہوئی، جہاں جاپان کے شہنشاہ ناروہیتو نے ایشین گیمز کے آغاز کا باقاعدہ اعلان کیا۔افتتاحی تقریب میں ملکہ ماساکو، ولی عہد اور شہزادی اکیشینو جبکہ بین الاقوامی اولمپک کمیٹی کی صدر کرسٹی کووینٹری سمیت اہم شخصیات نے شرکت کی۔ تقریب کا مرکزی موضوع **”Harmonic Heart Beat”** تھا، جبکہ گیمز کے ماسکوٹ ہونون نے بھی افتتاحی تقریب میں خصوصی شرکت کی۔ایتھنز 2004 اولمپکس کے ہیمر تھرو چیمپئن مورو فوشی کوجی اور ان کے والد، پانچ مرتبہ ایشین چیمپئن رہنے والے شگینوبو مورو فوشی نے مشترکہ طور پر کھیلوں کی مشعل روشن کرکے ایشین گیمز کے باقاعدہ آغاز کی علامت قائم کی۔ افتتاحی تقریب میں جاپان کی ثقافتی روایات اور معروف مقامات کو بھی اجاگر کیا گیا

 

جبکہ کبوکی اداکار نے ناگویا کاسل کے ماڈل کے سامنے خصوصی پرفارمنس پیش کی۔آئیچی ناگویا ایشین گیمز میں ایشیا کے 45 ممالک اور خطوں سے 15 ہزار سے زائد ایتھلیٹس 43 کھیلوں کے مقابلوں میں حصہ لے رہے ہیں۔ میزبان جاپان نے 933 ایتھلیٹس پر مشتمل سب سے بڑا دستہ میدان میں اتارا ہے۔ یہ تیسرا موقع ہے جب جاپان ایشین گیمز کی میزبانی کر رہا ہے، اس سے قبل ٹوکیو نے 1958 اور ہیروشیما نے 1994 میں ایشین گیمز کی میزبانی کی تھی۔آئیچی ناگویا ایشین گیمز 4 اکتوبرکو اختتامی تقریب کے ساتھ اختتام پذیر ہوں گے۔جاپان کے شہر ناگویا میں ایشین گیمز 2026 کی افتتاحی تقریب کا باقاعدہ آغاز ہوگیا، جہاں قومی ویمن کرکٹ ٹیم کی کپتان فاطمہ ثنا اور ابھرتے ہوئے اسکواش کھلاڑی نور زمان نے افتتاحی تقریب میں پاکستانی دستے کی قیادت کی۔افتتاحی تقریب ناگویا کے پالومہ میزہو اسٹیڈیم میں منعقد ہوئی، جس میں پاکستانی کھلاڑیوں نے قومی پرچم تھامے مارچ پاسٹ میں شرکت کی۔ پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے مطابق ایشین گیمز میں پاکستان کی نمائندگی 23 مختلف کھیلوں میں 246 کھلاڑی کر رہے ہیں، جن میں کرکٹ، اسکواش، ہاکی، ایتھلیٹکس اور ای اسپورٹس سمیت دیگر کھیل شامل ہیں۔ایشین گیمز کا یہ 20واں ایڈیشن ہے جو 4 اکتوبر تک جاری رہے گا۔ ایونٹ میں 45 ممالک اور خطوں کے 11 ہزار سے زائد کھلاڑی شریک ہیں، جبکہ 40 سے زائد کھیلوں کے مقابلے ہوں گے۔افتتاحی تقریب میں جاپان کے شہنشاہ اور ملکہ سمیت انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کی صدر کرسٹی کووینٹری نے بھی شرکت کی۔ تقریب کا مرکزی اسٹیج ایک بڑے دل کی شکل میں بنایا گیا تھا، جبکہ ایشیا میں اتحاد اور یکجہتی کا پیغام نمایاں رہا۔تاہم ایشین گیمز کے آغاز سے قبل انتظامات کو مختلف مسائل کا سامنا رہا۔ کھلاڑیوں اور آفیشلز کے لیے رہائش کے انتظامات، ٹرانسپورٹ اور عارضی رہائشی سہولیات سے متعلق شکایات سامنے آئیں، جبکہ حالیہ شدید بارشوں اور آنے والے طوفان کے باعث بھی انتظامیہ کو مشکلات کا سامنا ہے۔ایونٹ کے پہلے طلائی تمغے کا فیصلہ اتوار کو متوقع ہے، جبکہ ایشیا کے بہترین کھلاڑی مختلف کھیلوں میں ایکشن میں نظر آئیں گے۔ پاکستان بھی کرکٹ، ہاکی، اسکواش اور دیگر کھیلوں میں کامیابی کے لیے میدان میں اترے گا۔ جاپان کے شہر ناگویا میں ایشین گیمز کا باقاعدہ آغاز ہوگیا، تاہم کھیلوں کے سب سے بڑے براعظمی ایونٹ کے لیے انتظامات پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ دنیا بھر سے کھیلوں کی کوریج کے لیے ناگویا پہنچنے والے صحافیوں کو بنیادی سہولیات اور مناسب انتظامات کی عدم دستیابی کے باعث شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

 

ذرائع کے مطابق غیر ملکی صحافیوں کے لیے میڈیا کوریج، معلومات کے حصول اور مختلف مقامات تک رسائی کے حوالے سے خاطر خواہ انتظامات نہیں کیے گئے، جس کے باعث انہیں اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں انجام دینے میں دشواری پیش آ رہی ہے۔ کئی مقامات پر صحافیوں کو بروقت معلومات اور رہنمائی بھی دستیاب نہیں ہو رہی۔صحافیوں کی مشکلات میں اس وقت مزید اضافہ ہو جاتا ہے جب ایسے آفیشلز کو تعینات کیا جاتا ہے جو انگریزی زبان سے واقف نہیں، جس کے باعث غیر ملکی میڈیا نمائندگان کو رابطے اور معلومات کے حصول میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ صحافیوں کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی سطح کے کھیلوں کے ایونٹ میں میڈیا کے لیے بہتر سہولیات، واضح رہنمائی اور انگریزی سمجھنے والے تربیت یافتہ آفیشلز کی موجودگی ضروری ہے۔ایشین گیمز میں دنیا بھر سے کھلاڑیوں، آفیشلز اور میڈیا نمائندگان کی شرکت کے پیش نظر صحافتی حلقوں نے توقع ظاہر کی ہے کہ انتظامیہ میڈیا کو درپیش مسائل کا فوری نوٹس لے گی اور کوریج کے لیے ضروری سہولیات اور بہتر رابطہ کاری کو یقینی بنائے گی۔ اولمپک کونسل آف ایشیا (او سی اے)کے صدر شیخ جون بن حماد آل ثانی نے کہا ہے کہ کھیلوں کو سیاست اور سیاسی معاملات سے الگ رکھا جانا چاہیے۔ ان کا یہ بیان ایشین گیمز کے دوران تائیوان کے ایک حکومتی عہدیدار کو پرچم کشائی کی تقریب میں شرکت سے روکنے کے تنازع کے بعد سامنے آیا۔تائیوان کے وزیر کھیل سابق اولمپک بیڈمنٹن چیمپئن لی یانگ کو گزشتہ روز ابتدائی طور پر تقریب میں داخلے کی اجازت نہیں دی گئی۔اس پر تائیوان کے وفد نے احتجاجا تقریب میں شرکت سے انکار کردیا۔

بعد ازاں لی یانگ کو داخلے کی اجازت دی گئی جس کے باعث تقریب مقررہ وقت سے ایک گھنٹے سے زائد تاخیر سے شروع ہوئی۔شیخ جون نے کہا کہ کھیلوں کا مرکز کھلاڑی ہونے چاہئیں اور تمام ایتھلیٹس کو مساوی حقوق اور آزادی ملنی چاہیے۔او سی اے کے ڈائریکٹر جنرل حسین المسلم نے بھی واضح کیا کہ پرچم کشائی کی تقریب کھیلوں میں شریک افراد کے لیے تھی، حکومتی وفود کے لیے نہیں۔ایشین گیمز میں اس بار ریکارڈ 43 کھیلوں کے مقابلے اور 469 میڈل ایونٹس شامل ہیں۔منتظمین کو رہائش اور ٹرانسپورٹ سمیت بعض انتظامی مسائل کا بھی سامنا رہا ہے۔ قومی ریسلر انعام بٹ کو بڑا ریلیف مل گیا، انعام بٹ اور انٹرنیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی کے درمیان معاہدے کی تفصیل سامنے آ گئی۔انٹرنیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی نے محمد انعام بٹ کی ایشین گیمز میں شرکت کی تصدیق کر دی۔ذرائع کے مطابق محمد انعام بٹ پر 2ماہ کی پابندی 19جولائی سے 18ستمبر 2026ء تک رہی، ریسلر کی پابندی کی مدت مکمل ہو چکی ہے۔محمد انعام بٹ پر کوئی مالی جرمانہ عائد نہیں کیا گیا، نمونے میں پائی جانے والی دوا طبی علاج کے لیے استعمال ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔انٹرنیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی نے طبی دستاویزات کو تسلیم کرتے ہوئے انعام بٹ کو مطلوبہ دوا مزید ایک سال استعمال کرنے کی اجازت دے دی۔ایشین بیچ گیمز کے مقابلے کا نتیجہ منسوخ کر کے انعام بٹ سے چاندی کا تمغہ بھی واپس لے لیا گیا ہے۔انعام بٹ ایشیئن گیمز میں کوچ کی حیثیت سے شرکت کریں گے، وہ ریسلنگ فیڈریشن کے سیکریٹری ہیں اور تمام سرگرمیوں میں حصہ لینے کے اہل ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed