چائنہ ونڈو میں ادبی تقریب، آفتاب اقبال بانو کے سفرنامے کی رونمائی

چائنہ ونڈو کے زیرِ اہتمام ایک پروقار ادبی تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں معروف لکھاری اور براڈکاسٹر محترمہ آفتاب اقبال بانو کے سفرنامے "استنبول سے گیلی پولی تک” کی رونمائی کی گئی۔ تقریب کی مہمانِ خصوصی ڈائریکٹر ثقافت خیبر پختونخوا محترمہ حلیمہ اقبال تھیں، تقریب میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات، ادیبوں اور دانشوروں نے شرکت کی۔تقریب سے ممتاز شاعر، دانشور اور کالم نگار مشتاق شباب، ادیبہ کلثوم زیب، کالم نگار ناز پروین اور ادیب و شاعر ملک ارشد حسین نے کتاب پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔صدارتی ایوارڈ یافتہ ممتاز کمپئرجمشید علی خان نے میزبان کے فرائض انجام دئیے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مہمانِ خصوصی حلیمہ اقبال نے چائنہ ونڈو کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ پاک چین دوستی اور ثقافتی روابط کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ ثقافت اور چین کے ثقافتی اداروں کے درمیان باہمی تعاون کے ذریعے دونوں ممالک کی ثقافت کو مزید اجاگر کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے آفتاب اقبال بانو کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کا تعلق پشاور سے ہے اور اپنے آبائی شہر میں کتابوں کی رونمائی ایک قابلِ ستائش اقدام ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں لیکن ان کا دل آج بھی پشاور کے ساتھ دھڑکتا ہے۔
حلیمہ اقبال نے اپنے خطاب میں کہا کہ "استنبول سے گیلی پولی تک” ایک جامع اور دلچسپ سفرنامہ ہے جس میں ترکی کے تاریخی مقامات، خوبصورت جزائر، سلطنت عثمانیہ کی یادگاریں اور جنگ عظیم اول کے اہم محاذ گیلی پولی کے واقعات کو خوبصورتی سے بیان کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ کتاب قارئین کو نہ صرف معلومات فراہم کرتی ہے بلکہ انہیں مصنفہ کے ساتھ سفر کا احساس بھی دلاتی ہے۔انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ یہ سفرنامہ ادب کی دنیا میں ایک اہم مقام حاصل کرے گا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے محکمہ ثقافت کی سرگرمیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ نشتر ہال کو دوبارہ فعال بنانے اور ادبی و ثقافتی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لئے بھرپور اقدامات کئے جا رہے ہیں۔سفرنامہ کی مصنفہ اور سابق نامور براڈ کاسٹر آفتاب اقبال بانو نے تقریب سے خطاب میں کہا کہ ادب سے ان کا لگاؤ فطری ہے اور یہی وجہ ہے کہ انہوںنے کئی کتابیں لکھیں جن میں "سرزمین اسپین”،” اشک”، "میرا شہر میرا دلبر”، "ریڈیو جہان آواز”، "قصہ خوانی کا قتل عام”، :ملائشیا” اور” احوال روس” وغیرہ شامل ہیں جبکہ ہندکو کی تین کتابیں اور بے شمار مقالہ جات بھی انہوں نے تحریر کئے۔انہوں نے نوجوان نسل پر زور دیا کہ وہ کتب بینی کو اہمیت دیں ،علم و ادب کے فروغ کے لئے بھرپور کوششیں کریں اور فن و ثقافت کی ترویج کے لئے اپنے تمام تر وسائل بروئے کار لائیں۔
قبل ازیں مقررین نے آفتاب اقبال بانو کے سفر نامہ” استنبول سے گیلی پولی تک” کو ایک بہترین ادبی کاوش قرار دیا اور توقع ظاہر کہ مصنفہ مستقبل میں بھی ادب کی آبیاری کا سلسلہ جاری رکھیں گی۔ اس سے پہلے ڈائریکٹر کلچر خیبر پختون خوا نے مصنفہ آفتاب اقبال بانو کے سفرنامہ کی باضابطہ رونمائی کی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed