بھارت میں مردم شماری کل سے شروع ہوگی، 30 لاکھ افسران تعینات

بھارت میں کل یکم اپریل سے مردم شماری کا آغاز ہونے جارہاہے ،برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ گنتی چند برس قبل ہو رہی تھی مگر پھر کووڈ آنے کی وجہ سے وہ رک گئی تھی اور اس کے بعد معاملہ التوا کا شکار تھا۔ بھارتی حکومت کی جانب سے بتایا گیا کہ ایک دہائی میں ایک بار آبادی کا سروے دراصل 2021 میں ہونا تھا، اب یہ گنتی یکم اپریل سے شروع ہو گی اور اس کے ابتدائی مرحلے میں ان شہریوں کے لیے بھی ونڈو رکھی گئی ہے جو اپنی آن لائن رجسٹریشن چاہتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گھر گھر جا کر لوگوں کی گنتی شروع ہو گی جس کے دو مراحل ہوں گے۔ بھارتی محکمہ مردم شماری کے کمشنر مرتنجے کمار نارائن نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پہلے مرحلے میں مکانات اور رہائش سے متعلق معلومات اکٹھی کی جائیں گی کہ جبکہ دوسرے میں لوگوں کو شمار کرنے کے علاوہ ان کے لوگوں کے معاشی اور سماجی معیار کے حوالے سے معلومات جمع کی جائیں گی۔ بھارت اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ آبادی رکھنے والا ملک ہے۔ اقوام متحدہ کے پاپولیشن فنڈ کے مطابق انڈیا 2023 میں انڈیا ایک ارب 40 کروڑ کی آبادی کے ساتھ چین کو پیچھے چھوڑ گیا تھا۔اقتصادی ماہرین اور تجزیہ کار انڈیا کی بڑھتی ہوئی آبادی کو خطرے کی گھنٹی نہیں سمجھتے۔ اس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ وہاں کی حکومت طویل عرصے سے نوجوانوں کو ہنرمند بنانے کے منصوبوں پر کام کر رہی ہے اور اسے ایک اہم موقع قرار دیتی ہے تاہم دوسری جانب بہت سی بڑی معیشتیں زوال پذیر ہیں اور عمر رسیدہ افراد کے ساتھ آگے بڑھنے کی کوشش کر رہی ہیں۔مرتنجے کمار نارائن کا کہنا تھا کہ مردم شماری کے دوران مختلف ذاتوں کے حوالے سے معلومات بھی جمع کی جائیں گی۔ بھارت میں ذات پات اور سماجی طور پر سطح بندی کا نظام ہزاروں برس پرانا ہے اور ملک کے اندر جڑیں رکھنے کے علاوہ سیاست میں بھی پھیلا ہوا ہے۔ملک میں ذات پات کی بنیاد پر سیاست کرنے والی پارٹیاں پائی جاتی ہیں جبکہ بہت سے محکموں میں ملازت کے لیے ذاتوں کی بنیاد پر کوٹے مقرر ہیں اور کچھ ایسا ہی سلسلہ تعلیمی اداروں میں بھی دکھائی دیتا ہے۔ملک کے موجودہ نظام کے حامیوں کی جانب سے اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ مردم شماری میں ان لوگوں کی فہرستیں بھی بنائی جائیں جو سرکاری طور پر مالی امداد کے مستحق ہیں، جبکہ دوسری جانب مخالفین کا کہنا ہے کہ ایک ایسے ملک میں ذات پات کے لیے کوئی گنجائش نہیں جو دنیا کی بڑی طاقت بننے کا خواب دیکھ رہا ہے۔ بھارت میں 80 برس میں پہلی مرتبہ 2011 میں ذات کے حوالے سے اندراج کا کام کیا گیا تاہم پوری طرح شائع کرتے ہوئے سامنے نہیں لایا گیا کیونکہ اس کی درستی کے بارے میں خدشات پائے جاتے ہیں۔مردم شماری کے تمام مراحل اگلے برس می مارچ تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔ بھارتی محکمہ مردم شماری کے کمشنر مرتنجے کمار نارائن کا کہنا ہے کہ گنتی کے لیے استعمال ہونے والے آلات بشمول ڈیجیٹل گیجٹس کے جلد ہی جاری کر دئیے جائیں گے جن میں ایسے آلات بھی شامل ہیں جو پہلی بار استعمال کیے جا رہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed