پشاور ہائیکورٹ نے بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن بنوں کے چیئرمین کی تقرری کے خلاف دائر درخواست پر 14 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کرتے ہوئے صوبائی حکومت کا 13 مئی 2025 کا اعلامیہ کالعدم قرار دے دیا۔عدالت نے اپنے فیصلے میں صوبائی حکومت کو ہدایت کی ہے کہ بنوں بورڈ کے چیئرمین کی تقرری کے لیے دوبارہ اشتہار جاری کیا جائے اور تین ماہ کے اندر میرٹ کی بنیاد پر نئی تعیناتی عمل میں لائی جائے۔ اس دوران کسی مناسب اور ذمہ دار افسر کو چیئرمین کا عارضی چارج دینے کا بھی حکم دیا گیا ہے۔درخواست گزار کے وکیل کے مطابق درخواست گزار میرٹ لسٹ میں پہلے نمبر پر تھا، تاہم وزیراعلی نے مبینہ طور پر سیاسی اثر و رسوخ کے تحت سمری واپس کی۔ وکیل نے موقف اختیار کیا کہ ابتدائی طور پر تین امیدواروں کے نام شامل تھے، مگر بعد ازاں وزیراعلی کی ہدایت پر چوتھا نام فہرست میں شامل کیا گیا۔عدالت نے قرار دیا کہ چیئرمین کی تقرری کے لیے فہرست میں چوتھا نام شامل کرنا غیر قانونی اقدام تھا۔ سماعت کے دوران ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے اسکروٹنی کمیٹی کی سفارشات بھی عدالت میں پیش کیں۔عدالت کے فیصلے کے مطابق صوبائی حکومت کو ہدایت کی گئی ہے کہ تقرری کے عمل کو شفاف اور میرٹ کے مطابق یقینی بنایا جائے۔







