خیبرپختونخوا میں کابینہ کی توسیع ایک بار پھر اختلافات کی نذر ہوگئی ہے، جہاں دو مجوزہ ارکان کی شمولیت پر شدید تحفظات سامنے آنے کے بعد معاملہ فی الحال موخر کردیا گیا ہے، تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ رواں ہفتے اس حوالے سے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔وزیر اعلی خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کابینہ میں توسیع کے لیے پارٹی کی سیاسی قیادت سے مشاورت مکمل کرنے کے بعد 12 سے 14 نئے ارکان کو شامل کرنے کا ابتدائی فیصلہ کیا تھا، جس کے تحت مختلف اضلاع سے نمائندگی کو یقینی بنانے پر غور کیا گیا۔ذرائع کے مطابق مجوزہ فہرست میں دو غیر منتخب افراد کی شمولیت بھی زیر بحث آئی، تاہم دو منتخب ارکان کو کابینہ میں شامل کرنے کے معاملے پر وزیر اعلی کے قریبی حلقوں کی جانب سے اعتراضات سامنے آئے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ان میں ایک رکن کا تعلق قبائلی اضلاع جبکہ دوسرے کا جنوبی اضلاع سے ہے اور ان کی شمولیت پر متبادل نام بھی پیش کیے گئے ہیں جس کے باعث توسیع کا عمل تاخیر کا شکار ہوگیا۔ذرائع کے مطابق وزیر اعلی عید سے قبل خیبرپختونخوا کابینہ میں توسیع کے خواہاں تھے تاہم ملکی اور بین الاقوامی صورتحال کے پیش نظر اس فیصلے کو موخر کردیا گیا اور اب عید الفطر کے بعد اس عمل کو مکمل کرنے پر غور کیا جارہا ہے۔ حکومتی حلقوں کا دعوی ہے کہ اختلافات دور کرنے کے لیے مشاورت جاری ہے اور امکان ہے کہ آئندہ چند روز میں کابینہ کی توسیع کا باضابطہ اعلان کردیا جائے گا۔ذرائع کے مطابق مجوزہ کابینہ میں پشاور، نوشہرہ، چارسدہ، مردان، دیر، سوات، مانسہرہ، ایبٹ آباد، باجوڑ، مہمند، کرک اور ڈیرہ اسماعیل خان ڈویژن سے نمائندگی دیے جانے کا امکان ہے جبکہ بنوں ڈویژن سے شمولیت کے حوالے سے تاحال حتمی فیصلہ نہیں ہوسکا۔







