امریکی میڈیا نے دعوی کیا کہ ایران اور امریکا حالیہ دنوں میں براہِ راست رابطے میں رہے ہیں جبکہ ایرانی وزیرِ خارجہ نے امریکی ایلچی سے رابطے کی خبروں کو مسترد کردیا۔امریکی میڈیا رپورٹ کے مطابق ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی اور وٹکوف کے درمیان براہ راست رابطے کا چینل دوبارہ فعال کیا گیا ہے۔امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ جنگ شروع ہونے کے بعد فریقین کے درمیان یہ پہلا براہ راست رابطہ ہے۔امریکی میڈیاکے مطابق ایرانی وزیرخارجہ نے وٹکوف کوپیغامات بھیجے جن میں جنگ ختم کرنے پر توجہ مرکوز تھی، امریکی نمائندہ خصوصی وٹکوف نے ایرنی وزیرخارجہ کوبھی پیغامات بھیجے، وٹکوف نے ایرانی حکام کاحوالہ دیا جنہوں نیدعوی کیاکہ عراقچی وٹکوف کے پیغامات کو نظراندازکررہے ہیں۔دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ نے رپورٹ کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وٹکوف سے آخری رابطہ جنگ شروع ہونے سے پہلے ہوا تھا۔ سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کے ساتھ حالیہ رابطوں سے متعلق خبروں کو مسترد کردیا ہے۔ انہوں نے ایکس پر وضاحتی پیغام میں لکھا کہ میرا آخری رابطہ مسٹر وٹکوف سے اس وقت ہوا جب ان کے آجر نے ایران پر ایک اور غیر قانونی فوجی حملے کے ذریعے سفارتکاری کو ختم کرنے کا فیصلہ نہیں کیا تھا۔ایرانی وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ اس کے برعکس تمام دعوے گمراہ کن ہیں اور ان کا مقصد صرف تیل کے تاجروں اور عوام کو غلط معلومات فراہم کرنا ہے۔







