خیبرپختونخوا میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے تناظر میں ارکان اسمبلی تنخواہ میں نمایاں اضافے کی تجویز پر سنجیدہ غور شروع کر دیا گیا ہے۔ صوبائی اسمبلی میں اس حوالے سے تحریک پیش کی جا چکی ہے، جس کے بعد معاملہ مزید جانچ پڑتال کے لیے متعلقہ اسٹینڈنگ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا ہے، جہاں مالی اور قانونی پہلوں کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ذرائع کے مطابق مجوزہ پلان کے تحت صوبائی اسمبلی کے ارکان کی ماہانہ تنخواہ بڑھا کر پانچ لاکھ روپے تک کرنے کی سفارش زیر غور ہے۔ اس تجویز پر عمل درآمد سے قبل فنانس ڈیپارٹمنٹ، لا ڈیپارٹمنٹ اور دیگر متعلقہ اداروں سے رائے طلب کر لی گئی ہے تاکہ سرکاری خزانے پر پڑنے والے ممکنہ اضافی بوجھ کا درست اندازہ لگایا جا سکے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ 3 فروری کو ہونے والے خیبرپختونخوا اسمبلی کے اجلاس میں ارکان کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافے کی باقاعدہ تحریک پیش کی گئی تھی، جسے ابتدائی بحث کے بعد اسٹینڈنگ کمیٹی کے حوالے کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق مہنگائی، رہائشی اخراجات اور دیگر مالی دبا کے باعث ارکان اسمبلی تنخواہ میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔سرکاری حلقوں کا مقف ہے کہ پنجاب اسمبلی میں ارکان کی تنخواہیں تقریبا اسی سطح تک پہنچ چکی ہیں، جس کے باعث خیبرپختونخوا میں بھی ممبران کی تنخواہوں کو ہم پلہ کرنے کی تجاویز سامنے آ رہی ہیں۔ تاہم حتمی فیصلہ فنانس اور لا ڈیپارٹمنٹ کی سفارشات اور صوبے کی مالی گنجائش سے مشروط ہوگا، جس کے بعد سمری دوبارہ ایوان میں منظوری کے لیے پیش کی جائے گی۔دوسری جانب اس مجوزہ اضافے نے عوامی حلقوں میں بھی بحث چھیڑ دی ہے۔ بعض افراد کا کہنا ہے کہ مہنگائی کے اس دور میں عوام کو ریلیف دینے کے بجائے نمائندوں کی تنخواہوں میں اضافہ سوالیہ نشان ہے، جبکہ حامی حلقوں کے مطابق مہنگائی سب کو متاثر کر رہی ہے اور ارکان اسمبلی تنخواہ میں نظرثانی وقت کی ضرورت بن چکی ہے۔







