دہشتگردی خاتمہ صوبائی حکومت کی ذمہ داری’وفاق بھی ساتھ دے’ آفتاب شیرپائو

قومی وطن پارٹی کے چیئرمین آفتاب احمد خان شیرپائو نے کہا ہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت دانستہ طور پر دہشت گردی سے متعلق اپنا الگ بیانیہ تشکیل دے رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے مسئلے پر دو مختلف بیانیے موجود ہیں۔وہ ضلع چارسدہ کے گاوں شیرپاو میں اپنے بڑے بھائی شہید حیات محمد خان شیرپاو کی 51ویں برسی کے موقع پر منعقدہ ایک بڑے جلسہ عام سے خطاب کر رہے تھے۔ آفتاب شیرپاو نے کہا کہ اگر پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کے عوام کو درپیش مسائل کو ترجیح نہیں دے سکتی تو اسے حکومت میں رہنے کا کوئی حق حاصل نہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں امن و امان برقرار رکھنا بنیادی طور پر صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے تاہم وفاقی حکومت کو بھی صوبے کا ساتھ دینا چاہیے۔ انہوں نے اسلام آباد میں حالیہ خودکش حملے کی شدید مذمت بھی کی۔شہید وطن حیات محمد خان شیرپاو کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شہید حیات شیرپاو نے انتہائی نامساعد حالات میں کسانوں، کاشتکاروں اور معاشرے کے پسماندہ طبقات کے حقوق کے لیے جدوجہد کی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس سرزمین کے پہلے سیاسی شہید تھے جنہوں نے تاریخ کا رخ بدلنے کا وژن رکھا۔ انہوں نے کہا کہ شہیدحیات شیرپاو نے کم عمری کے باوجود اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا اور سماجی انصاف اور آئینی و سماجی حقوق کے لیے جدوجہد کی۔ملکی سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے آفتاب شیرپاو نے کہا کہ اس وقت پاکستان کو سب سے بڑا چیلنج دہشت گردی کا درپیش مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2025 سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کیلئے جانی نقصان کے لحاظ سے سب سے مہلک سال ثابت ہوا تاہم وفاقی اور صوبائی حکومتیں اس سنگین مسئلے کو نظر انداز کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خاتمے میں سب سے بڑی رکاوٹ ایک متفقہ قومی بیانیے کا فقدان ہے لہذا تمام ریاستی اداروں کو ایک صفحے پر آنا ہوگا۔تیراہ کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شدید سردی میں خواتین، بچوں اورمقامی آبادی کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا مگر صوبائی حکومت نے کوئی موثر انتظامات نہیں کیے جس سے عوام میں بے چینی پیدا ہوئی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی حکومت نے اس مسئلے کو سیاست کی نذر کیا اور بے گھر خاندانوں کو باعزت طریقے سے واپس بھیجنے اور ریلیف فراہم کرنے میں ناکام رہی۔آفتاب شیرپاو نے چین کے ترقیاتی ماڈل کو اپنانے کی وکالت کرتے ہوئے کہا کہ اس ماڈل کے تحت پسماندہ علاقوں کو ترقی دی جاسکتی ہے جبکہ پاکستان میں اس کے برعکس ہو رہا ہے اور پنجاب کو ترجیح دی جا رہی ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed