پشاور ہائیکورٹ کو بتایا گیا ہے کہ صوبائی حکومت نے سرکاری افسران کی سوشل میڈیا سے ویڈیو اپ لوڈ کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے اور اس حوالے سے مجاز حکام سے اجازت اور ایس او پیز کی تیاری کا عمل جاری ہے جبکہ عدالت نے اس ضمن میں ایس او پیز بنانے اور رپورٹ 30 دن میں جمع کرنے کی ہدایت کردیں ۔ڈپٹی کمشنر صوابی کی جانب سے سوشل میڈیا پر صوابی یونیورسٹی کی تقریب کی ویڈیوں شیئر کرنے کے خلاف محمد حمدان ایڈوکیٹ کی رٹ کی سماعت جسٹس سید ارشدعلی اور جسٹس فہیم ولی پر مشتمل دو رکنی بنچ نے کی ۔عدالت نے تحریری حکم نامہ جاری کردیا ہے۔ حکم نامہ کے۔مطابق ڈائریکٹر پی ایم آر یو نے بتایا کہ سرکاری افسران بغیر قانونی اختیار کے سوشل میڈیا اکانٹس استعمال نہیں کر سکتے، اس درخواست میں سرکاری افسران کے سوشل میڈیا اکانٹس چلانے سے متعلق بنیادی مسئلہ اٹھایا گیا ہے, ڈائریکٹر پی ایم آر یو (پرفامنس مینجینمنٹ ریفارمز یونٹ)کے مطابق سرکاری افسران کسی کی نجی زندگی سے متعلق سوشل میڈیا پر ویڈیوز اپلوڈ نہیں کرسکتے کیونکہ یہ عوامی مفاد میں نہیں۔خیبرپختونخوا حکومت کے سروس رول 34 A کے مطابق کوئی بھی سرکاری افسر سوشل میڈیا کا استعمال نہیں کرسکتا،سرکاری امور کی انجام دہی کے لئے سوشل میڈیا کا استعمال ضروری ہوں تو اس کے لئے متعلقہ انتظامی سیکرٹری سے پیشگی اجازت لینا ہوگی، سرکاری امور پر سوشل میڈیا استعمال کرنے پر مس کنڈکٹ رولز لاگو ہوں گے ۔ عدالت نے قرار دیا کہ صوبائی حکومت سرکاری ملازمین کے سوشل میڈیا استعمال کے حوالے سے ایس او پیز بنائیں اور رپورٹ ایک ماہ میں جمع کریں۔ درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ ڈپٹی کمشنر صوابی نے ویمن یونیورسٹی صوابی کی ویڈیو ٹک ٹاک اکانٹ پر شیئر کی جو غیر قانونی طور پر آفیشل پیج سے آپ لوڈ کی، اور اس پر ہندوستانی گانے لگائے تھے،کوئی بھی سرکاری افسر ٹک ٹاک، یوٹیوب، وی چیٹ وغیرہ استمعال نہیں کرسکتا اگر کوئی افسر دوران ڈیوٹی اس طرح ذاتی تشہیر کرتا ہے تو اس کا یہ عمل خیبرپختونخوا سروس رولز آف بزنس کے خلاف ہے،







