بنگلہ دیش میں 13ویں پارلیمانی انتخابات کل جمعرات کو منعقد ہونگے ،امیدواروںکیلئے انتخابی مہم کا وقت ختم ہو گیا ۔ عام انتخابات کیلئے ملک بھر میں فوج کو تعینات کردیا گیا ہے ، آئندہ3 روز کیلئے موٹر سائیکل چلانے پر ملک گیر پابندی عائد کی گئی ہے۔غیرملکی میڈیارپورٹس کے مطابق بنگلہ دیش میں انتخابی مہم باضابطہ طور پر 22 جنوری کو شروع ہوئی تھی تاہم الیکشن کمیشن کی ہدایات کے مطابق اسے ووٹنگ سے 48 گھنٹے قبل ختم کرنا ہوتا ہے۔اس کے مطابق انتخابی مہم کا دورانیہ منگل کی صبح ساڑھے سات بجے ختم ہو گیا۔بنگلہ دیش کے الیکشن کمیشن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ 14 فروری کی شام 4:30 بجے تک کسی بھی حلقے میں کوئی عوامی اجتماع یا جلسہ نہیں کیا جائے گا۔ کل 12 فروری بروز جمعرات صبح 7:30 بجے بنگلہ دیش میں ووٹ ڈالنے کا سلسلہ شروع ہو گا جو شام 4:30 بجے تک مسلسل جاری رہے گی۔اس دن ملک کے 300 پارلیمانی حلقوں میں سے 299 میں بیک وقت ووٹنگ ہو گی۔شیخ حسینہ واجد کی اقتدار سے بے دخلی کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ ملک میں انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔شیخ حسینہ کی جماعت عوامی لیگ ان انتخابات میں حصہ لینے سے قاصر ہے کیونکہ اس کی سرگرمیوں پر پابندی عائد ہے۔مجموعی طور پر تقریبا 2000 امیدوار اس الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں، جن میں 250 سے زیادہ آزاد امیدوار ہیں۔ عام انتخابات کے موقع پر سیکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کئے گئے ہیں ۔ملک بھر میں فوج کو تعینات کردیا گیا، 3 روز کیلئے موٹر سائیکل چلانے پر ملک گیر پابندی عائد کی گئی ہے۔30 حکومت بنانے کیلئے 300 میں سے 151 نشستوں پر اکثریت حاصل کرنا لازم ہے۔ نوبل انعام یافتہ ڈاکٹر محمد یونس نے بنگلا دیش کی عبوری حکومت کے سربراہ کے طور پر ذمہ داریاں سنبھالی تھِیں۔یاد رہے کہ بنگلادیش میں قومی پارلیمانی انتخابات کے حوالے سے کیے گئے ایک تازہ عوامی سروے میں بی این پی اور بنگلادیش جماعتِ اسلامی کی قیادت میں بننے والے اتحاد کے درمیان سخت مقابلے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔سروے کے مطابق بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی قیادت میں قائم اتحاد کو 44.1 فیصد ووٹ ملنے کا امکان ہے جبکہ بنگلادیش جماعتِ اسلامی کے زیر قیادت 11 سیاسی جماعتوں پر مشتمل اتحاد کو 43.9 فیصد ووٹ مل سکتے ہیں۔






