صوبائی وزیر ڈاکٹر امجد کیخلاف الیکشن کمیشن کا نوٹس کالعدم قرار

پشاور ہائی کورٹ نے صوبائی وزیر ڈاکٹر امجد کے خلاف الیکشن کمیشن کے نوٹس کو کالعدم قرار دیدیا اور معاملے کو چیف الیکشن کمشنر کو بھجوا دیا تاکہ وہ اس کیس کو سننے کیلئے لارجر بنچ تشکیل دے۔پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس سید ارشد علی نے صوبائی وزیر ڈاکٹر امجد کا الیکشن کمیشن اثاثہ جات نوٹس اور کارروائی کے خلاف کیس میں 10 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کردیا ۔ جس میں ڈاکٹر امجد کی درخواستیں منظور کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کا نوٹس کالعدم قرار دے دیا۔فیصلے میں کہا گیا کہ محکمہ ریونیو اور ڈی سی سوات کے مطابق درخواست گزار کے اثاثہ جات کی تفصیلات درست ہیں جبکہ الیکشن کمیشن نے درخواست گزار کے خلاف حکم امتناع کے باوجود فیصلہ دیا ۔ الیکشن کمیشن نے اسپیکر صوبائی اسمبلی کو درخواست گزار کو نااہل قرار دینے کے لیے معاملہ ارسال کیا ۔ الیکشن کمیشن کے پاس درخواست گزار کو نااہل کرنے کے لئے سپیکر کو ریفرنس ارسال کرنے کا اختیار نہیں ہے۔فیصلے میں یہ بھی لکھا گیا کہ اسی طرح کسی بھی رکن کی نااہلی کا اختیار الیکشن کمیشن ،عدالت اور نہ ہی ٹربیونل کو حاصل ہے۔ قانون کے مطابق اسپیکر صوبائی اسمبلی نے ٹھیک کیا، کہ الیکشن کمیشن کے ریفرنس کو مسترد کیا۔ فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ الیکشن ایکٹ 2017 کے سکیشن 137 کے مطابق اسمبلی ممبران اور سینٹ ممبران اکتیس دسمبر تک گوشوارے جمع کرنے کے پابند ہیں اور اگر 16 جنوری تک ممبران گوشوارے جمع نہیں کرتے تو پھر الیکشن کمیشن ممبر کی رکنیت معطل کرتا ہے۔فیصلے میں کہا گیا کہ الیکشن کمیشن کو معاملہ انکوائری کی حد تک واپس بھجوایا جاتا ہے،الیکشن کمیشن درخواست گزار کو موقع دیتے ہوئے اس پر سماعت کرے۔ فیصلہ میں یہ بھی کہا گیا کہ الیکشن کمیشن نے عدالتی حکم امتناع کی توہین کرتے ہوئے درخواست گزار کے خلاف آرڈر پاس کیا ہے۔الیکشن کمیشن ایک آئینی ادارہ ہے، اس وجہ سے انکے خلاف توہین عدالت کارروائی سے عدالت خود کو روکتی ہے۔ اسے لئے اس معاملے کو چیف الیکشن کمیشنر کو بھجواتی ہے تاکہ وہ اپنی سربراہی میں لاجر بینچ بنا کر اس معاملے پر سماعت کرے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed