چائلڈ پروٹیکشن رولز میں ترمیم غیر قانونی قرار

شعیب جمیل

پشاور ہائیکورٹ نے چائلڈ پروٹیکشن رولز میں ترمیم اور انسٹیٹیوٹ مینجمنٹ کمیٹی تحلیل کرنے کیخلاف دائر رٹ پٹیشن منظور کرتے ہوئے مذکورہ ترمیم کوغیرقانونی قراردیدیا اور کمیٹی میں کلیرئنس کے بعد اہل اور تجربہ کار ممبرز کو تعینات کرنے کاحکم دیدیا۔ جسٹس سید ارشدعلی اور جسٹس خورشید اقبال پر مشتمل بنچ نے فہیم اللہ اخونزادہ ایڈوکیٹ کے وساطت سے حامداللہ کی رٹ پٹیشن پر سماعت کی۔ جس میں خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے خیبرپختونخوا چائلڈ پروٹیکشن رولز 2016 کے رول 32 میں ترمیم کو چیلنج کیاگیا تھا ۔رٹ میں موقف اختیار کیاگیاکہ خیبرپختونخوا چائلڈ پروٹیکشن ایکٹ 2010 کے تحت حکومت سٹریٹ چلڈرن اور دیگر ایسے بچوں کے تحفظ، فلاح وبہبود، تعلیم وبحالی وغیرہ کیلئے کام کرے گی ۔اس مقصد کیلئے چائلڈ پروٹیکشن انسٹیٹیوشن بھی قائم کیا گیاجس کیلئے انسٹیٹیوٹ مینجمنٹ کمیٹی تشکیل دی گئی جو پالیسی سازی اور گورننگ باڈی کے طور پر کام کرے گی اور یہ چائلڈ پروٹیکشن انسٹیٹیوشن کی معاونت اور اس کے مقاصد کو حاصل کرنے کیلئے کام کریگی۔ درخواست گزارکے وکیل نے بتایاکہ اس کمیٹی کے ممبران کو صوبائی حکومت مقرر کریگی جس میں 3آفیشل اور 4نان آفیشل ممبرز ہونگے۔ مزید برآں کہ ان نان آفیشل میمبران کے لیے تعلیم اور تجربہ ہونا لازمی ہے مگر 2021 میں ترمیم کرکے تعلیم اور تجربہ کی شرط ختم کی گء جو غیرقانونی وغیرآئینی اقدام ہے ۔ دوسری عدالت نے دلائل مکمل ہونے پر قراردیاکہ فریقین نے یہ وضاحت نہیں کی کہ آئی ایم سی کوکیوں تحلیل کیاگیا ،عدالت نے قراردیاکہ حکومت کے پاس رولز وضع کرنے کااختیار ہے تاہم یہ قانون کے دائرے میں ہونا چاہیے۔ عدالت نے مذکورہ ترمیم کالعدم قراردیتے ہوئے 2019ترمیم کے سب رول (2)کو بحال کردیا اور حکومت کو ہدایت کی کہ وہ بچوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزیاں روکنے کیلئے متعلقہ ادارے کیساتھ تصادم کی بجائے پولیس کلیئرنس کے بعد متعلقہ شعبوں میں اہل و تجربہ کار افراد کوآئی ایم سی کا ممبرز تعینات کریں۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed