نوبل امن انعام کے منتظمین نے اس سال کے فیصلے سے متعلق معلومات کے ممکنہ لیک ہونے پر تحقیقات شروع کر دیں۔نوبل کمیٹی کے مطابق انعام کے اعلان سے چند گھنٹے قبل آن لائن بیٹنگ پلیٹ فارم پر وینیزویلا کی اپوزیشن لیڈر ماریا کورینا مشاڈو کے حق میں شرط لگانے کی سرگرمیوں میں اچانک اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔بلوم برگ کی رپورٹ کے مطابق، دنیا کی سب سے بڑی پریڈکشن مارکیٹ سمجھی جانے والی پولی مارکیٹ نامی ویب سائٹ پر ماریا کورینا مشاڈو کے جیتنے کے امکانات نوبل انعام کے اعلان سے چند گھنٹے قبل ہی 5 فیصد سے بڑھ کر 70 فیصد تک جا پہنچے۔ماریا کورینا مچاڈو نے امن کا نوبیل انعام صدر ٹرمپ کے نام کر دیاناروے کے نوبل انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر کرسٹیان برگ ہارپ ویکن نے تصدیق کرتے ہوئے کہا، ہم اس معاملے کو نہایت سنجیدگی سے لے رہے ہیں لگتا ہے کہ ہم ایک ایسے مجرم کے نشانے پر آئے ہیں جو خفیہ معلومات سے مالی فائدہ اٹھانا چاہتا تھا۔بلوم برگ کے مطابق ایک صارف، جس کا یوزر نیم dirtycup تھا، اس نے انعام کے اعلان سے محض چند گھنٹے پہلے 70ہزار ڈالر کی شرط لگائی اور بعد ازاں تقریبا ً30ہزار ڈالر کا منافع حاصل کیا۔ حیران کن بات یہ ہے کہ اس صارف نے اس ماہ ہی اکانٹ کھولا تھا اور اس سے پہلے کسی بھی بیٹنگ میں حصہ نہیں لیا تھا۔ایک اور صارف 6741 نے بھی تقریبا 50ہزار ڈالر کمائے۔ اس نے بھی انعام کے اعلان سے صرف 12 گھنٹے پہلے شرط لگانی شروع کی تھی، جب ماچادو کے جیتنے کے امکانات انتہائی کم تھے۔ تاہم، اس کے بعد دیگر صارفین نے بھی انہی امکانات پر شرطیں لگائیں جس سے انعام کے جیتنے کے امکانات تیزی سے بڑھ گئے۔ان غیر معمولی شرطوں اور منافعوں نے اس شبہے کو جنم دیا ہے کہ شاید نوبل انعام کے نتائج خفیہ طور پر لیک کیے گئے ہوں۔ دوسری جانب پولی مارکیٹ نے تحقیقات کے اعلان پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر صرف ایک لفظی طنزیہ ردعمل دیا: Whoops (یعنی، اوہو!)۔نوبل کمیٹی نے اس معاملے کی مکمل چھان بین کا اعلان کیا ہے تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا کوئی اندرونی اطلاع واقعی بیٹنگ پلیٹ فارمز تک پہنچی تھی یا نہیں۔







