ایران جنگ اور آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی کے اثرات اب بھارتی معیشت پر بھی نمایاں ہونے لگے جہاں تیل کی درآمدی لاگت میں تیزی سے اضافہ اور مہنگائی کے دبا نے حکومتی مالیات کو شدید متاثر کیا ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق بھارت، جو دنیا کا تیسرا سب سے بڑا تیل درآمد کرنے والا ملک ہے، اپنی تقریبا 90 فیصد تیل کی ضروریات بیرونی ممالک سے پورا کرتا ہے۔ اس وجہ سے ایران جنگ اور عالمی سپلائی میں خلل بھارت کے لئے ایک بڑا معاشی خطرہ بن چکا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مشرقِ وسطی میں جاری کشیدگی اور آبنائے ہرمز کے راستے میں رکاوٹوں کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار ہیں، جس سے بھارت کا درآمدی بل نمایاں طور پر بڑھ گیا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق صرف اپریل میں بھارت کا تیل اور گیس کا درآمدی بل مارچ کے مقابلے میں 53 فیصد بڑھ گیا، جس کے نتیجے میں ملک کے کرنٹ اکائو نٹ خسارے میں اضافے کے خدشات پیدا ہو گئے ۔ معاشی ماہرین کے مطابق مسلسل بلند تیل قیمتیں نہ صرف مہنگائی میں اضافہ کر رہی ہیں بلکہ زرعی شعبے کو بھی متاثر کر رہی ہیں، خاص طور پر کھاد کی سپلائی میں رکاوٹوں کے باعث گندم اور دیگر اہم فصلوں پر دبا بڑھ سکتا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال طویل ہوئی تو بھارتی معیشت کی ترقی کی رفتار سست پڑ سکتی ہے، جبکہ روپے پر بھی دبائو مزید بڑھنے کا امکان ہے۔ اسٹیٹ بینک آف انڈیا کے مطابق حکومت کی جانب سے مالیاتی استحکام کے لئے اقدامات کیے جا رہے ہیں، تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ جب تک عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں مستحکم نہیں ہوتیں، بھارتی معیشت پر دبا برقرار رہے گا۔







