امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعوی کیا ہے کہ ایران کے ساتھ ہونے والے ممکنہ معاہدے پر بیشتر معاملات طے پاچکے ہیں جبکہ حتمی نکات پر بات چیت آخری مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔ انہوں نے عندیہ دیا کہ معاہدے کا باضابطہ اعلان جلد سامنے آسکتا ہے۔صدر ٹرمپ کے مطابق مجوزہ معاہدہ صرف امریکا اور ایران تک محدود نہیں ہوگا بلکہ اس میں کئی اہم مسلم ممالک بھی شامل ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز کو کھول دیا جائے گا جس سے خطے میں کشیدگی کم ہونے اور عالمی تجارتی سرگرمیوں میں بہتری کی توقع ہے۔امریکی صدر کا کہنا تھا کہ انہوں نے پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر سمیت متعدد مسلم ممالک کی قیادت سے رابطے کیے ہیں۔ان کے مطابق سعودی عرب کے ولی عہد، متحدہ عرب امارات کے صدر، قطر کے امیر، جبکہ ترکیہ، مصر، اردن اور بحرین کی قیادت سے بھی ایران سے متعلق مفاہمتی یادداشت پر تفصیلی گفتگو ہوئی ہے۔ٹرمپ نے کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم کو بھی پیش رفت سے آگاہ کردیا گیا ہے اور تمام فریقین کو خطے میں استحکام کے لیے اعتماد میں لیا جارہا ہے۔ان کے بقول معاہدہ بڑی حد تک تیار ہے تاہم حتمی منظوری اور آخری تفصیلات پر مذاکرات ابھی جاری ہیں۔امریکی صدر نے اس پیش رفت کو مشرقِ وسطی میں ایک بڑی سفارتی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر یہ معاہدہ طے پا گیا تو خطے میں نئی سیاسی صف بندیاں دیکھنے کو مل سکتی ہیں۔وزیراعظم شہباز شریف نے امید ظاہر کی ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا اگلادورجلد پاکستان کی میزبانی میں ہوگا۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں شہباز شریف نے کہا کہ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو امن کے حصول کیلئے ان کی غیر معمولی کوششوں پر مبارکباد پیش کرتا ہوں ۔سعودی عرب، قطر، ترکی، مصر، متحدہ عرب امارات، اردن اور پاکستان کے رہنمائو ں کے ساتھ ان کی انتہائی مفید اور نتیجہ خیز ٹیلی فونک گفتگو پر بھی مبارکباد دیتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اس ٹیلی فونک کال میں پاکستان کی نمائندگی کی اور میں پورے عمل کے دوران ان کی مسلسل اور انتھک کاوشوں کی بہت قدر کرتا ہوں۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اس بات چیت نے موجودہ علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کرنے اور خطے میں پائیدار امن لانے کیلئے جاری امن کی کوششوں کو آگے بڑھانے کا ایک مفید موقع فراہم کیا ہے







